صحیح بخاری حدیث ۶۴۶۸ - جنت اور دوزخ کا مشاہدہ
جنت اور دوزخ کی حدیث: خیر و شر کی حقیقت
صحیح بخاری : ۶۴۶۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۴۶۸
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُهُ يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى لَنَا يَوْمًا الصَّلَاةَ ، ثُمَّ رَقِيَ الْمِنْبَرَ ، فَأَشَارَ بِيَدِهِ قِبَلَ قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ : " قَدْ أُرِيتُ الْآنَ مُنْذُ صَلَّيْتُ لَكُمُ الصَّلَاةَ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ مُمَثَّلَتَيْنِ فِي قُبُلِ هَذَا الْجِدَارِ ، فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ ، فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ " .
بلال بن علی روایت:
میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک دن نماز پڑھائی، پھر منبر پر چڑھے اور اپنے ہاتھ سے مسجد کے قبلہ کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا کہ اس وقت جب میں نے تمہیں نماز پڑھائی تو مجھے اس دیوار کی طرف جنت اور دوزخ کی تصویر دکھائی گئی میں نے (ساری عمر میں) آج کی طرح نہ کوئی بہشت کی سی خوبصورت چیز دیکھی نہ دوزخ کی سی ڈراؤنی، میں نے آج کی طرح نہ کوئی بہشت جیسی خوبصورت چیز دیکھی نہ دوزخ جیسی ڈراؤنی چیز۔
صحیح بخاری حدیث ۶۴۶۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں جنت اور دوزخ کا ذکر بہت واضح انداز میں آیا ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے صحابہ کو نماز پڑھائی، پھر منبر پر تشریف لے گئے اور مسجد کے قبلہ کی طرف اشارہ کیا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ نماز کے وقت جنت اور دوزخ کو اس دیوار کی طرف دکھایا گیا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ آج کی طرح خیر میں جنت جیسی خوبصورت چیز نہیں دیکھی، اور شر میں دوزخ جیسی ڈراؤنی چیز نہیں دیکھی۔ یہ حدیث انسان کو آخرت کی یاد دلاتی ہے۔ جنت امید دلاتی ہے، دوزخ انسان کو گناہ سے بچنے کی فکر دیتی ہے۔ اس میں صرف وہی بات ہے جو حدیث میں آئی: جنت کی خوبصورتی اور دوزخ کی خوفناک حقیقت۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جنت خیر کی عظیم نعمت ہے۔
- دوزخ شر اور گناہ کے انجام کی سخت یاد دہانی ہے۔
- نماز کے بعد نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے صحابہ کو آخرت یاد دلائی۔
- آخرت پر غور انسان کو سنجیدہ بناتا ہے۔
