صحیح بخاری حدیث ۶۵۱ - مسجد تک چلنے کا اجر
زیادہ چلنے والے کا زیادہ اجر
صحیح بخاری : ۶۵۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۵۱
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَعْظَمُ النَّاسِ أَجْرًا فِي الصَّلَاةِ أَبْعَدُهُمْ فَأَبْعَدُهُمْ مَمْشًى ، وَالَّذِي يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ حَتَّى يُصَلِّيَهَا مَعَ الْإِمَامِ أَعْظَمُ أَجْرًا مِنَ الَّذِي يُصَلِّي ثُمَّ يَنَامُ " .
ابوموسیٰ روایت:
نماز میں ثواب کے لحاظ سے سب سے بڑھ کر وہ شخص ہوتا ہے، جو (مسجد میں نماز کے لیے) زیادہ سے زیادہ دور سے آئے اور جو شخص نماز کے انتظار میں بیٹھا رہتا ہے اور پھر امام کے ساتھ پڑھتا ہے اس شخص سے اجر میں بڑھ کر ہے جو (پہلے ہی) پڑھ کر سو جائے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۵۱ کا خلاصہ
نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جو شخص مسجد کے لیے زیادہ دور سے آتا ہے اسے زیادہ اجر ملتا ہے۔ اسی طرح جو نماز کا انتظار کرتا ہے اس کا اجر بھی زیادہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز کے لیے مشقت پر اجر ملتا ہے۔
- نماز کا انتظار باعث ثواب ہے۔
- جماعت کے ساتھ نماز افضل ہے۔
