صحیح بخاری حدیث ۶۵۰ - سنت کی حفاظت
سنت سے دوری پر صحابی کا غم
صحیح بخاری : ۶۵۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۵۰
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَالِمًا ، قَالَ : سَمِعْتُ أُمَّ الدَّرْدَاءِ ، تَقُولُ : " دَخَلَ عَلَيَّ أَبُو الدَّرْدَاءِ وَهُوَ مُغْضَبٌ ، فَقُلْتُ : مَا أَغْضَبَكَ ؟ فَقَالَ : وَاللَّهِ مَا أَعْرِفُ مِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا إِلَّا أَنَّهُمْ يُصَلُّونَ جَمِيعًا " .
ام الدرداء روایت:
ایک مرتبہ) ابودرداء آئے، بڑے ہی خفا ہو رہے تھے۔ میں نے پوچھا کہ کیا بات ہوئی، جس نے آپ کو غضبناک بنا دیا۔ فرمایا: اللہ کی قسم! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کی کوئی بات اب میں نہیں پاتا۔ سوا اس کے کہ جماعت کے ساتھ یہ لوگ نماز پڑھ لیتے ہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۶۵۰ کا خلاصہ
حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ نے اپنی ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ لوگوں میں سنت کے بہت سے آثار باقی نہیں رہے، البتہ جماعت کے ساتھ نماز ادا کی جا رہی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سنت کی حفاظت ضروری ہے۔
- جماعت کی اہمیت برقرار رہے۔
- دین میں غفلت نقصان دہ ہے۔
