صحیح مسلم حدیث ۲۵۱ - بے ہنر کی مدد بھی نیکی ہے

بے ہنر کی مدد: آسان نیکی کا خوبصورت راستہ

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۵۱

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَ عبد : أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حَبِيبٍ مَوْلَى عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِنَحْوِهِ غَيْرَ ، أَنَّهُ قَالَ : فَتُعِينُ الصَّانِعَ أَوْ تَصْنَعُ للأَخْرَقَ .

ابوذر روایت:

سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے دوسری روایت بھی ایسی ہی ہے۔ سوائے اس کے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو مدد کرے کسی «صانع» کی یا مزدوری کرا سکے اس کے لئے جو بے ہنر ہے۔“

صحیح مسلم حدیث ۲۵۱ کا خلاصہ

یہ روایت سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کی سابقہ روایت کے قریب ہے، مگر اس میں الفاظ یہ ہیں کہ آدمی کسی صانع کی مدد کرے یا اس کے لیے کام کرے جو بے ہنر ہو۔ اس سے ایک بڑی عملی بات سمجھ آتی ہے کہ اسلام میں نیکی صرف بڑی عبادتوں یا بڑے مالی کاموں تک محدود نہیں۔ اگر کوئی شخص خود ماہر ہے تو کسی کمزور یا بے ہنر کی مدد کر سکتا ہے۔ اگر کوئی ضرورت مند کام نہیں جانتا تو اسے کام میں سہارا دینا بھی نیکی ہے۔ حدیث ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ہر انسان کے پاس خیر کا کوئی نہ کوئی راستہ ہوتا ہے۔ بس نیت درست ہو، تکبر نہ ہو، اور آدمی دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ضرورت مند کو کام میں مدد دینا نیک عمل ہے۔
  • نیکی صرف مال خرچ کرنے کا نام نہیں۔
  • ہر شخص اپنی طاقت کے مطابق خیر کر سکتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں