صحیح مسلم حدیث ۲۵۰ - نیکی نہ ہو سکے تو برائی سے بچو

کسی کو نقصان نہ دینا بھی اپنے حق میں صدقہ ہے

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۵۰

حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ . ح وحَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " أَيُّ الأَعْمَالِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : الإِيمَانُ بِاللَّهِ وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِهِ ، قَالَ : قُلْتُ : أَيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : أَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا ، وَأَكْثَرُهَا ثَمَنًا ، قَالَ : قُلْتُ : فَإِنْ لَمْ أَفْعَلْ ؟ قَالَ : تُعِينُ صَانِعًا أَوْ تَصْنَعُ لأَخْرَقَ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ إِنْ ضَعُفْتُ عَنْ بَعْضِ الْعَمَلِ ؟ قَالَ : تَكُفُّ شَرَّكَ عَنِ النَّاسِ ، فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ مِنْكَ عَلَى نَفْسِكَ " .

ابوذر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے پوچھا کہ کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ پر ایمان لانا اور جہاد کرنا اس کی راہ میں“۔ میں نے کہا: کون سا غلام آزاد کرنا افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو غلام اس کے مالک کو عمدہ معلوم ہو اور جس کی قیمت بھاری ہو“۔میں نے کہا: اگر میں یہ نہ کر سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو مدد کر کسی «صانع» کی مزدوری کر اس کیلئے جو بے ہنر ہو۔“ (یعنی کوئی کام اور پیشہ نہ جانتا ہو اور روٹی کا محتاج ہو) میں نے کہا: یا رسول اللہ! اگر خود میں ناتواں ہوں؟ یعنی کام نہ کر سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو کسی سے برائی نہ کر، یہی تیرا صدقہ ہے اپنے نفس پر۔“

صحیح مسلم حدیث ۲۵۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں نیکی کے کئی درجے بیان ہوئے ہیں۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کون سا عمل افضل ہے؟ جواب ملا: اللہ پر ایمان اور اس کی راہ میں جہاد۔ پھر غلام آزاد کرنے کے بارے میں پوچھا تو بتایا گیا کہ وہ غلام جس کی قدر زیادہ ہو اور قیمت بھاری ہو۔ پھر جب ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر میں یہ نہ کر سکوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی کاریگر کی مدد کرو یا بے ہنر کے لیے کام کرو۔ پھر اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو فرمایا: لوگوں سے اپنی برائی روک لو، یہی تمہارا اپنے نفس پر صدقہ ہے۔ یہ حدیث بہت آسان راستہ بتاتی ہے: نیکی کے بڑے کام نہ ہو سکیں تو کم از کم کسی کو نقصان نہ پہنچاؤ۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نیکی کے کئی درجے ہیں، ہر شخص اپنی طاقت کے مطابق عمل کرے۔
  • بے ہنر یا ضرورت مند کی مدد کرنا اچھا عمل ہے۔
  • کسی کو نقصان نہ دینا بھی صدقہ ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں