صحیح بخاری حدیث ۶۵۴۴ - جنت اور جہنم میں ہمیشہ رہنا

جنت اور جہنم میں خلود: اب موت نہیں آئے گی

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۵۴۴

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَدْخُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ ، وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ ، ثُمَّ يَقُومُ مُؤَذِّنٌ بَيْنَهُمْ : يَا أَهْلَ النَّارِ ، لَا مَوْتَ ، وَيَا أَهْلَ الْجَنَّةِ ، لَا مَوْتَ ، خُلُودٌ " .

ابن عمر روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب اہل جنت جنت میں اور اہل جہنم جہنم میں داخل ہو جائیں گے تو ایک آواز دینے والا ان کے درمیان کھڑا ہو کر پکارے گا کہ اے جہنم والو! اب تمہیں موت نہیں آئے گی اور اے جنت والو! تمہیں بھی موت نہیں آئے گی بلکہ ہمیشہ یہیں رہنا ہو گا۔“

صحیح بخاری حدیث ۶۵۴۴ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع جنت، جہنم اور ہمیشہ رہنا ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جب اہل جنت جنت میں اور اہل جہنم جہنم میں داخل ہو جائیں گے تو ایک اعلان کرنے والا ان کے درمیان کھڑا ہو کر پکارے گا۔ اہل جہنم سے کہا جائے گا کہ اب تمہیں موت نہیں آئے گی، اور اہل جنت سے کہا جائے گا کہ تمہیں بھی موت نہیں آئے گی، بلکہ ہمیشہ یہیں رہنا ہوگا۔ یہ خلود کی حدیث آخرت کے انجام کو بہت واضح کر دیتی ہے۔ دنیا میں موت ہر چیز کو ختم کر دیتی ہے، مگر اس حدیث میں بتایا گیا کہ آخرت کے اس مرحلے کے بعد موت نہیں ہوگی۔ اس لیے جنت اور جہنم کا معاملہ عارضی نہیں سمجھنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اہل جنت جنت میں اور اہل جہنم جہنم میں داخل ہوں گے۔
  • داخلے کے بعد اعلان ہوگا کہ اب موت نہیں آئے گی۔
  • جنت اور جہنم کے انجام کو حدیث میں خلود کے لفظ سے بیان کیا گیا ہے۔
  • آخرت کا انجام انسان کے لیے بہت سنجیدہ معاملہ ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں