صحیح بخاری حدیث ۶۵۴۵ - اہل جنت اور اہل دوزخ کا ہمیشہ رہنا

اہل جنت اور اہل دوزخ: خلود لا موت کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۵۴۵

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُقَالُ لِأَهْلِ الْجَنَّةِ : يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ ، خُلُودٌ لَا مَوْتَ ، وَلِأَهْلِ النَّارِ : يَا أَهْلَ النَّارِ ، خُلُودٌ لَا مَوْتَ " .

ابوہریرہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اہل جنت سے کہا جائے گا کہ اے اہل جنت! ہمیشہ (تمہیں یہیں) رہنا ہے، تمہیں موت نہیں آئے گی اور اہل دوزخ سے کہا جائے گا کہ اے دوزخ والو! ہمیشہ (تم کو یہیں) رہنا ہے، تم کو موت نہیں آئے گی۔“

صحیح بخاری حدیث ۶۵۴۵ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع آخرت میں ہمیشہ رہنا ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اہل جنت سے کہا جائے گا: اے اہل جنت! ہمیشہ رہنا ہے، تمہیں موت نہیں آئے گی۔ اسی طرح اہل دوزخ سے کہا جائے گا: اے دوزخ والو! ہمیشہ رہنا ہے، تمہیں موت نہیں آئے گی۔ یہ حدیث بہت مختصر ہے مگر آخرت کے انجام کو واضح کر دیتی ہے۔ انسان دنیا میں موت کو سب سے بڑی تبدیلی سمجھتا ہے، مگر یہاں بتایا گیا کہ جنت اور دوزخ میں داخلے کے بعد موت نہیں ہوگی۔ اس لیے جنت کی کامیابی اور دوزخ سے بچنے کی فکر کو معمولی بات نہیں سمجھنا چاہیے۔ حدیث کا پیغام صاف ہے کہ آخرت کا آخری ٹھکانا مستقل ہوگا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اہل جنت سے ہمیشہ رہنے اور موت نہ آنے کا اعلان ہوگا۔
  • اہل دوزخ سے بھی موت نہ آنے اور ہمیشہ رہنے کا اعلان ہوگا۔
  • آخرت کا انجام دنیا کے عارضی حالات جیسا نہیں ہوگا۔
  • حدیث انسان کو جنت کی طلب اور دوزخ سے بچنے کی فکر یاد دلاتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں