صحیح بخاری حدیث ۶۵۴۶ - جنت و جہنم میں داخل ہونے والوں کا بیان
جنت اور جہنم کی حدیث: غریبوں اور عورتوں کا ذکر
صحیح بخاری : ۶۵۴۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۵۴۶
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ ، عَنْ عِمْرَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " اطَّلَعْتُ فِي الْجَنَّةِ ، فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا الْفُقَرَاءَ ، وَاطَّلَعْتُ فِي النَّارِ ، فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ " .
عمران بن حصین روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا کہ میں نے جنت میں جھانک کر دیکھا تو وہاں رہنے والے اکثر غریب لوگ تھے اور میں نے جہنم میں جھانک کر دیکھا (شب معراج میں) تو وہاں عورتیں تھیں۔
صحیح بخاری حدیث ۶۵۴۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع جنت و جہنم ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آپ نے جنت میں جھانک کر دیکھا تو وہاں رہنے والوں میں اکثر غریب لوگ تھے، اور جہنم میں جھانک کر دیکھا تو وہاں عورتیں تھیں۔ اس متن میں ایک بڑی آخرتی حقیقت بیان ہوئی ہے: دنیا کی مالی حیثیت آخرت میں کامیابی کا اصل پیمانہ نہیں۔ غریب ہونا خود بخود فضیلت کا دعویٰ نہیں، لیکن حدیث بتاتی ہے کہ جنت میں بہت سے غریب لوگ ہوں گے۔ اسی طرح جہنم میں عورتوں کی کثرت کا ذکر آیا ہے، مگر اس روایت میں اس کا سبب بیان نہیں کیا گیا، اس لیے یہاں وجہ خود سے نہیں گھڑنی چاہیے۔ یہ حدیث انسان کو جنت کی طلب، جہنم سے پناہ، اور اپنے اعمال کے جائزے کی طرف متوجہ کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دنیا کی دولت آخرت کی کامیابی کا لازمی معیار نہیں۔
- جنت اور جہنم پر ایمان انسان کو اپنے اعمال پر غور کرنے والا بناتا ہے۔
- حدیث میں جو بات آئی ہے، اسی تک بات محدود رکھنی چاہیے؛ سبب خود سے بیان نہیں کرنا چاہیے۔
