صحیح بخاری حدیث ۵۱۹۸ - جنت میں غریب اور دوزخ میں عورتیں
جنت میں غریبوں کی کثرت اور دوزخ کی تنبیہ
صحیح بخاری : ۵۱۹۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۱۹۸
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ ، عَنْ عِمْرَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " اطَّلَعْتُ فِي الْجَنَّةِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا الْفُقَرَاءَ ، وَاطَّلَعْتُ فِي النَّارِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ " . تَابَعَهُ أَيُّوبُ ، وَسَلْمُ بْنُ زَرِيرٍ .
عمران روایت:
میں نے جنت میں جھانک کر دیکھا تو اس کے اکثر رہنے والے غریب لوگ تھے اور میں نے دوزخ میں جھانک کر دیکھا تو اس کے اندر رہنے والی اکثر عورتیں تھیں۔ اس روایت کی متابعت ابوایوب اور سلم بن زریر نے کی ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۱۹۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے جنت میں جھانک کر دیکھا تو اس کے اکثر رہنے والے غریب لوگ تھے، اور دوزخ میں جھانک کر دیکھا تو اس کے اندر رہنے والی اکثر عورتیں تھیں۔ یہ روایت آخرت کی فکر پیدا کرتی ہے۔ اس میں جنت، دوزخ، غریبوں، اور عورتوں کا ذکر آیا ہے، مگر بات کو اسی حد تک رکھنا چاہیے جو حدیث میں ہے۔ حدیث یہ نہیں کہتی کہ ہر غریب لازماً جنتی ہے یا ہر عورت لازماً دوزخی ہے؛ بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مشاہدے کی خبر دی۔ اس سے ہر شخص کو اپنا محاسبہ کرنا چاہیے، خاص طور پر اخلاق، شکر، اور حقوق کے معاملے میں محتاط رہنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- آخرت کی فکر ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔
- حدیث کو اسی حد تک سمجھنا چاہیے جو متن میں بیان ہے۔
- جنت اور دوزخ کا ذکر خود احتسابی کے لیے ہے۔
- غریب یا مالدار ہونا اصل نہیں، انجام اللہ کے ہاں ہے۔
