صحیح بخاری حدیث ۶۵۵۳ - جنت کا وسیع سایہ
جنت کے وسیع درخت کی حدیث: تیز گھوڑا بھی نہ طے کرے
صحیح بخاری : ۶۵۵۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۵۵۳
قَالَ أَبُو حَازِمٍ : فَحَدَّثْتُ بِهِ النُّعْمَانَ بْنَ أَبِي عَيَّاشٍ ، فَقَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَشَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ الْجَوَادَ الْمُضَمَّرَ السَّرِيعَ مِائَةَ عَامٍ مَا يَقْطَعُهَا " .
ابوسعید روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جنت میں ایک درخت ہو گا جس کے سایہ میں عمدہ اور تیز رفتار گھوڑے پر سوار شخص سو سال تک چلتا رہے گا اور پھر بھی اسے طے نہ کر سکے گا۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۵۵۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع جنت کی وسعت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت میں ایک درخت ہوگا جس کے سایے میں عمدہ، تیار اور تیز رفتار گھوڑے پر سوار شخص سو سال تک چلتا رہے گا، پھر بھی اسے طے نہیں کر سکے گا۔ پچھلی روایت میں بھی جنت کے درخت کے سایے کی وسعت کا ذکر ہے، اور اس روایت میں تیز رفتار گھوڑے کا اضافہ اس وسعت کو مزید واضح کرتا ہے۔ حدیث کا مقصد جنت کی نعمتوں کو دل کے قریب کرنا ہے، مگر تفصیل وہی ہے جو متن میں آئی ہے۔ ہمیں اس سے جنت کی عظمت، اللہ کی عطا، اور آخرت کی کامیابی کی قدر سمجھنی چاہیے۔ دنیا کا آرام محدود ہے، جنت کا آرام اللہ کی دی ہوئی خاص نعمت ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جنت کی وسعت کو دنیا کے عام سفر سے ناپنا ممکن نہیں۔
- حدیث میں جنت کے درخت کے سایے کی غیر معمولی وسعت بیان ہوئی ہے۔
- جنت کی نعمتوں کا ذکر دل میں آخرت کی طلب پیدا کرتا ہے۔
