صحیح بخاری حدیث ۶۵۵۲ - جنت کے درخت کا سایہ
جنت کے درخت کی حدیث: سو سال کا سایہ
صحیح بخاری : ۶۵۵۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۵۵۲
وَقَالَ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ : أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَشَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ عَامٍ لَا يَقْطَعُهَا " .
سہل بن سعد روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جنت میں ایک درخت ہے جس کے سایہ میں سوار سو سال تک چلنے کے بعد بھی اسے طے نہیں کر سکے گا۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۵۵۲ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع جنت کی نعمتیں ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت میں ایک درخت ہے، جس کے سایے میں سوار سو سال تک چلتا رہے تو بھی اسے طے نہیں کر سکے گا۔ یہ بیان جنت کی وسعت اور وہاں کی نعمتوں کی عظمت کو سمجھاتا ہے۔ دنیا میں انسان درخت، سایہ اور آرام کو محدود انداز میں دیکھتا ہے، مگر جنت کی نعمتیں دنیا کی پیمائش سے کہیں بڑھ کر ہیں۔ حدیث میں درخت کا نام یا مزید تفصیل بیان نہیں ہوئی، اس لیے گفتگو اسی بات تک محدود رہنی چاہیے کہ جنت میں ایسا عظیم درخت ہوگا۔ اس روایت سے دل میں جنت کی طلب پیدا ہوتی ہے اور آدمی سوچتا ہے کہ آخرت کی کامیابی دنیا کی عارضی سہولتوں سے بہت بڑی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جنت کی نعمتیں دنیا کی عام سمجھ اور پیمائش سے بڑی ہیں۔
- حدیث میں جنت کے ایک عظیم درخت کے سایے کا ذکر ہے۔
- جنت کی یاد انسان کو نیکی اور آخرت کی تیاری کی طرف لاتی ہے۔
