صحیح بخاری حدیث ۶۵۵۱ - دوزخی کافر کی جسمانی حالت

جہنم میں کافر کی حالت: کندھوں کے فاصلے کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۵۵۱

حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ أَسَدٍ ، أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا الْفُضَيْلُ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا بَيْنَ مَنْكِبَيِ الْكَافِرِ مَسِيرَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ للرَّاكِبِ الْمُسْرِعِ " .

ابوہریرہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کافر کے دونوں شانوں کے درمیان تیز چلنے والے کے لیے تین دن کی مسافت کا فاصلہ ہو گا۔“

صحیح بخاری حدیث ۶۵۵۱ کا خلاصہ

اس حدیث کا بنیادی موضوع جہنم اور دوزخی کی حالت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کافر کے دونوں شانوں کے درمیان تیز چلنے والے سوار کے لیے تین دن کی مسافت کا فاصلہ ہوگا۔ یہ حدیث آخرت کے عذاب کی ہیبت کو بیان کرتی ہے۔ متن میں صرف جسمانی وسعت کا ذکر آیا ہے، اس کی کیفیت یا حکمت کی تفصیل نہیں دی گئی۔ اس لیے بہتر ہے کہ اس حدیث کو اسی طرح مانا جائے جیسے بیان ہوئی ہے، بغیر اپنی طرف سے تصویر سازی یا اضافی بات شامل کیے۔ جہنم کا ذکر قرآن و حدیث میں انسان کو ڈرانے اور اپنی اصلاح کی طرف لانے کے لیے آتا ہے۔ یہاں بھی اصل مقصد یہ ہے کہ آدمی کفر، نافرمانی اور جہنم کے انجام سے ڈرے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • جہنم کے عذاب کی کیفیت دنیا کے عام اندازوں سے بہت مختلف ہوگی۔
  • حدیث کی غیبی باتوں میں اپنی طرف سے تفصیل نہیں بڑھانی چاہیے۔
  • جہنم کا ذکر انسان کو ایمان اور اصلاح کی طرف متوجہ کرتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں