صحیح مسلم حدیث ۲۸۵۲ - اللہ کی دی ہوئی خوراک: شکار کا گوشت
غیر محرم کے شکار کا گوشت: اللہ کی دی ہوئی خوراک
صحیح مسلم : ۲۸۵۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۸۵۲
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، عَنْ مَالِكٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِبَعْضِ طَرِيقِ مَكَّةَ ، تَخَلَّفَ مَعَ أَصْحَابٍ لَهُ مُحْرِمِينَ وَهُوَ غَيْرُ مُحْرِمٍ ، فَرَأَى حِمَارًا وَحْشِيًّا فَاسْتَوَى عَلَى فَرَسِهِ ، فَسَأَلَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُنَاوِلُوهُ سَوْطَهُ فَأَبَوْا عَلَيْهِ ، فَسَأَلَهُمْ رُمْحَهُ فَأَبَوْا عَلَيْهِ فَأَخَذَهُ ، ثُمَّ شَدَّ عَلَى الْحِمَارِ فَقَتَلَهُ ، فَأَكَلَ مِنْهُ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَى بَعْضُهُمْ ، فَأَدْرَكُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : " إِنَّمَا هِيَ طُعْمَةٌ أَطْعَمَكُمُوهَا اللَّهُ " ،
ابوقتادہ روایت:
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کسی راہ میں مکہ کے اور وہ چند یاروں کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے رہ گئے اور وہ غیر محرم تھے اور یار ان کے محرم پھر ایک وحشی گدھا دیکھا اور اپنے گھوڑے پر چڑھے اور یاروں سے کوڑا مانگا کسی نے نہ دیا، نیزہ مانگا کسی نے نہ دیا پھر انہوں نے آپ لے لیا اور گھوڑے کو دوڑایا اور گدھے کو مار لیا اور اصحاب میں سے کسی نے کھایا کسی نے نہیں پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تو ایک خوراک ہے کہ اللہ عزوجل نے تم کو دی۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۸۵۲ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ دوبارہ آتا ہے۔ وہ خود غیر محرم تھے، جبکہ ان کے ساتھی احرام میں تھے۔ انہوں نے جنگلی گدھا دیکھا، کوڑا اور نیزہ مانگا مگر ساتھیوں نے نہ دیا۔ پھر انہوں نے خود لیا، شکار کیا، اور کچھ صحابہ نے کھایا جبکہ کچھ رکے رہے۔ جب رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے پاس پہنچ کر پوچھا گیا تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ یہ ایک خوراک ہے جو اللہ نے تمہیں دی ہے۔ اس حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ جب شکار غیر محرم نے کیا اور محرموں نے اس میں مدد نہ کی، تو اس واقعے میں کھانے کی اجازت بیان ہوئی۔ بات اسی واقعے کی حدود میں رہنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ابو قتادہؓ غیر محرم تھے اور شکار انہوں نے خود کیا۔
- محرم ساتھیوں نے شکار میں مدد نہیں کی۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے اسے اللہ کی دی ہوئی خوراک فرمایا۔
