حدیث ۲۸۵۱
صحیح مسلم : ۲۸۵۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۸۵۱
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا مُحَمَّدٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا قَتَادَةَ ، يَقُولُ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْقَاحَةِ فَمِنَّا الْمُحْرِمُ وَمِنَّا غَيْرُ الْمُحْرِمِ ، إِذْ بَصُرْتُ بِأَصْحَابِي يَتَرَاءَوْنَ شَيْئًا ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا حِمَارُ وَحْشٍ ، فَأَسْرَجْتُ فَرَسِي وَأَخَذْتُ رُمْحِي ، ثُمَّ رَكِبْتُ فَسَقَطَ مِنِّي سَوْطِي ، فَقُلْتُ لِأَصْحَابِي وَكَانُوا مُحْرِمِينَ : نَاوِلُونِي السَّوْطَ ، فَقَالُوا : وَاللَّهِ لَا نُعِينُكَ عَلَيْهِ بِشَيْءٍ ، فَنَزَلْتُ فَتَنَاوَلْتُهُ ، ثُمَّ رَكِبْتُ فَأَدْرَكْتُ الْحِمَارَ مِنْ خَلْفِهِ ، وَهُوَ وَرَاءَ أَكَمَةٍ ، فَطَعَنْتُهُ بِرُمْحِي فَعَقَرْتُهُ ، فَأَتَيْتُ بِهِ أَصْحَابِي ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : كُلُوهُ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَا تَأْكُلُوهُ ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَامَنَا ، فَحَرَّكْتُ فَرَسِي فَأَدْرَكْتُهُ ، فَقَالَ : " هُوَ حَلَالٌ فَكُلُوهُ " .
ابومحمد ابوقتادہ کے آزاد کردہ غلام کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ وہ کہتے تھے کہ نکلے ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہاں تک کہ جب پہنچے ہم قاحہ میں (اور وہ ایک میدان ہے سقیا سے ایک منزل پر اور مدینہ سے تین منزل پر) اور بعض لوگ ہم میں سے محرم تھے اور بعض غیر محرم کہ اتنے میں میں نے اپنے یاورں کو دیکھا کہ وہ کسی چیز کو دیکھ رہے ہیں، جب میں نے نظر کی تو ایک گدھا وحشی تھا اور میں نے اپنے گھوڑے پر زین رکھا اور اپنا نیزہ لیا اور سوار ہوا اور میرا کوڑا گر پڑا اور میں نے اپنے یاروں سے کہا اور وہ محرم تھے کہ میرا کوڑا اٹھا دو۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم تمہاری کچھ مدد نہ کریں گے پھر میں نے اتر کر کوڑا لیا اور سوار ہوا اور اس گدھے تک اس کے پیچھے سے پہنچا اور وہ ٹیلے کے پیچھے تھا پھر اس کو نیزہ مارا اور اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں اور اپنے یاروں کے پاس لایا اور کسی نے کہا: کھاؤ اور کسی نے کہا: مت کھاؤ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے آگے تھے، سو میں نے اپنا گھوڑا بڑھایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ حلال ہے پس کھاؤ۔“
