صحیح بخاری حدیث ۶۵۵۷ - شرک سے بچنے کی تنبیہ
شرک سے بچنے کی حدیث: آسان حکم اور سخت انجام
صحیح بخاری : ۶۵۵۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۵۵۷
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى : " لِأَهْوَنِ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ : لَوْ أَنَّ لَكَ مَا فِي الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ أَكُنْتَ تَفْتَدِي بِهِ " ، فَيَقُولُ : نَعَمْ ، فَيَقُولُ : " أَرَدْتُ مِنْكَ أَهْوَنَ مِنْ هَذَا ، وَأَنْتَ فِي صُلْبِ آدَمَ ، أَنْ لَا تُشْرِكَ بِي شَيْئًا ، فَأَبَيْتَ إِلَّا أَنْ تُشْرِكَ بِي " .
انس بن مالک روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن دوزخ کے سب سے کم عذاب پانے والے سے پوچھے گا اگر تمہیں روئے زمین کی ساری چیزیں میسر ہوں تو کیا تم ان کو فدیہ میں (اس عذاب سے نجات پانے کے لیے) دے دو گے، وہ کہے گا کہ ہاں، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے تم سے اس سے بھی سہل چیز کا اس وقت مطالبہ کیا تھا جب تم آدم علیہ السلام کی پیٹھ میں تھے کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا لیکن تم نے (توحید کا) انکار کیا اور نہ مانا آخر شرک ہی کیا۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۵۵۷ کا خلاصہ
اس حدیث کا بنیادی موضوع توحید اور شرک ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن دوزخ کے سب سے کم عذاب پانے والے سے پوچھے گا کہ اگر تمہارے پاس زمین کی ہر چیز ہوتی تو کیا تم اسے فدیہ دے دیتے؟ وہ کہے گا: ہاں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے تم سے اس سے بھی آسان بات چاہی تھی، جب تم آدم علیہ السلام کی پشت میں تھے: میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا۔ مگر تم نے شرک ہی اختیار کیا۔ اس حدیث میں اصل زور اس بات پر ہے کہ توحید اللہ کا بنیادی حق ہے۔ آخرت میں مال، زمین، چیزیں، فدیہ، کچھ بھی انسان کو اس انجام سے نہیں بچا سکے گا جب اصل حکم کو رد کیا گیا ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا بنیادی ایمانی حکم ہے۔
- قیامت کے دن دنیا کی ساری چیزیں فدیہ کے طور پر کام نہیں آئیں گی۔
- حدیث میں شرک کے انجام کی سخت تنبیہ بیان ہوئی ہے۔
