صحیح بخاری حدیث ۴۴۹۷ - شرک سے بچاؤ اور توحید

شرک کی حدیث: اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ پکارنا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۴۹۷

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ شَقِيقٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلِمَةً ، وَقُلْتُ أُخْرَى ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ مَاتَ وَهْوَ يَدْعُو مِنْ دُونِ اللَّهِ نِدًّا دَخَلَ النَّارَ " , وَقُلْتُ : أَنَا مَنْ مَاتَ وَهْوَ لَا يَدْعُو لِلَّهِ نِدًّا دَخَلَ الْجَنَّةَ .

عبداللہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کلمہ ارشاد فرمایا اور میں نے ایک اور بات کہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اس حالت میں مر جائے کہ وہ اللہ کے سوا اوروں کو بھی اس کا شریک ٹھہراتا رہا ہو تو وہ جہنم میں جاتا ہے اور میں نے یوں کہا کہ جو شخص اس حالت میں مرے کہ اللہ کا کسی کو شریک نہ ٹھہراتا رہا تو وہ جنت میں جاتا ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۴۴۹۷ کا خلاصہ

یہ حدیث شرک کی حدیث اور توحید کی حدیث دونوں پہلوؤں کو بہت واضح کرتی ہے۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بات فرمائی اور انہوں نے اس کے ساتھ ایک دوسری بات کہی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اس حال میں مر جائے کہ وہ اللہ کے سوا کسی اور کو اللہ کا شریک ٹھہراتا رہا ہو، وہ جہنم میں جاتا ہے۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جو شخص اس حال میں مرے کہ اللہ کا کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، وہ جنت میں جاتا ہے۔ اس روایت میں اصل پیغام یہ ہے کہ عبادت اور پکار اللہ کے لیے ہو۔ شرک، ند، توحید، جنت اور جہنم کے الفاظ اسی حدیث کے مرکزی الفاظ ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اللہ کے سوا کسی کو شریک پکارنا سخت خطرے کی بات ہے۔
  • توحید پر مرنے کی فضیلت اس روایت میں بیان ہوئی ہے۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شرک کے انجام سے خبردار کیا۔
  • عبداللہ رضی اللہ عنہ نے توحید کے انجام کو بیان کیا۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں