صحیح بخاری حدیث ۱۲۳۸ - شرک کا انجام اور توحید کی نجات
شرک کی وعید اور توحید کی امید: صحیح بخاری کی حدیث
صحیح بخاری : ۱۲۳۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۲۳۸
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنَا شَقِيقٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ مَاتَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ النَّارَ " , وَقُلْتُ أَنَا : مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ .
عبداللہ بن مسعود روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اس حالت میں مرے کہ کسی کو اللہ کا شریک ٹھہراتا تھا تو وہ جہنم میں جائے گا اور میں یہ کہتا ہوں کہ جو اس حال میں مرا کہ اللہ کا کوئی شریک نہ ٹھہراتا ہو وہ جنت میں جائے گا۔
صحیح بخاری حدیث ۱۲۳۸ کا خلاصہ
اس حدیث کا موضوع توحید اور شرک ہے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: جو شخص اس حال میں مرے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا تھا، وہ جہنم میں جائے گا۔ پھر ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اپنی طرف سے یہ بات کہی کہ جو اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، وہ جنت میں جائے گا۔ اس روایت میں دو باتیں بالکل صاف ہیں: شرک کا انجام بہت خطرناک ہے، اور توحید پر مرنا نجات کی امید کا راستہ ہے۔ حدیث کا مقصد دل میں توحید کو مضبوط کرنا اور شرک سے بچانا ہے۔ اس میں انسان کو اپنے عقیدے کی حفاظت کی طرف متوجہ کیا گیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- شرک کا انجام حدیث میں سخت بتایا گیا ہے۔
- توحید پر موت جنت کی امید کا سبب ہے۔
- عقیدے کی حفاظت مسلمان کے لیے بہت اہم ہے۔
