صحیح بخاری حدیث ۶۵۶۶ - شفاعتِ محمد صلى الله عليه وسلم اور جنت میں داخلہ

شفاعتِ محمد صلى الله عليه وسلم کی حدیث: جہنم سے نکل کر جنت میں داخلہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۵۶۶

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ ذَكْوَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَخْرُجُ قَوْمٌ مِنَ النَّارِ بِشَفَاعَةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ يُسَمَّوْنَ : الْجَهَنَّمِيِّينَ " .

عمران بن حصین روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ایک جماعت جہنم سے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کی شفاعت کی وجہ سے نکلے گی اور جنت میں داخل ہو گی جن کو «جهنميين‏"‏‏.» کے نام سے پکارا جائے گا۔“

صحیح بخاری حدیث ۶۵۶۶ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع شفاعت ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ ایک جماعت جہنم سے محمد صلى الله عليه وسلم کی شفاعت کی وجہ سے نکلے گی، پھر جنت میں داخل ہو گی۔ اس روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ ان لوگوں کو جہنمیین کہا جائے گا۔ اس سے شفاعتِ محمد صلى الله عليه وسلم کی حقیقت سامنے آتی ہے، مگر حدیث کے متن میں صرف اسی جماعت کا ذکر ہے جو جہنم سے نکالی جائے گی اور جنت میں داخل ہو گی۔ اس لیے اس حدیث کی شرح میں ہمیں اسی بات تک رہنا چاہیے۔ یہ حدیث آخرت، جہنم سے نجات، جنت میں داخلہ، اور شفاعت رسول صلى الله عليه وسلم جیسے اہم موضوعات سے متعلق ہے۔ عام آدمی کے لیے اس کا پیغام یہ ہے کہ آخرت کا معاملہ بہت بڑا ہے، اور نبی صلى الله عليه وسلم کی شفاعت اللہ کے حکم سے بندوں کے لیے رحمت کا سبب بنے گی۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلى الله عليه وسلم کی شفاعت سے ایک جماعت جہنم سے نکالی جائے گی۔
  • حدیث کے مطابق وہ جماعت آخرکار جنت میں داخل ہو گی۔
  • آخرت میں نجات اور داخلۂ جنت اللہ کے حکم سے ہو گا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں