صحیح بخاری حدیث ۶۵۷۲ - ابوطالب کے بارے میں سوال

ابوطالب کے بارے میں سوال: نبی صلى الله عليه وسلم سے عباس رضی اللہ عنہ کی روایت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۵۷۲

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْ الْعَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ نَفَعْتَ أَبَا طَالِبٍ بِشَيْءٍ ؟ " .

عباس روایت:

´ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے عبدالملک نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن حارث بن نوفل نے بیان کیا اور ان سے عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا آپ نے ابوطالب کو کوئی نفع پہنچایا؟

صحیح بخاری حدیث ۶۵۷۲ کا خلاصہ

اس حدیث کا موضوع ابوطالب کے بارے میں پوچھا گیا سوال ہے۔ عباس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے عرض کیا کہ کیا آپ نے ابوطالب کو کوئی نفع پہنچایا؟ فراہم کردہ متن میں صرف یہی سوال نقل ہوا ہے، جواب اس حصے میں موجود نہیں۔ اس لیے اس حدیث کی شرح میں اس سے زیادہ بات قطعی طور پر شامل نہیں کی جا سکتی۔ متن ہمیں یہ دکھاتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی صلى الله عليه وسلم سے آخرت اور نفع کے معاملات کے بارے میں سوال کرتے تھے۔ یہاں ابوطالب کا نام آیا ہے، اور سوال نفع پہنچانے سے متعلق ہے۔ چونکہ روایت کا یہ حصہ مختصر ہے، اس لیے اسے شفاعت یا آخرت کے باب سے جوڑا جا سکتا ہے، مگر جواب کے بغیر کوئی تفصیلی حکم یا نتیجہ بیان کرنا درست نہیں ہو گا۔ عام قاری کے لیے درست طریقہ یہی ہے کہ اس متن کو ایک سوال کے طور پر سمجھے اور اضافی دعویٰ نہ کرے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اس روایت میں عباس رضی اللہ عنہ کا نبی صلى الله عليه وسلم سے سوال نقل ہوا ہے۔
  • متن میں ابوطالب کے بارے میں نفع پہنچانے کا سوال ہے۔
  • اس حصے میں جواب مذکور نہیں، اس لیے مزید نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں