صحیح بخاری حدیث ۶۵۹۳ - دین سے پلٹنے سے پناہ
دین سے پلٹنے سے پناہ: حوضِ کوثر کی تنبیہ
صحیح بخاری : ۶۵۹۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۵۹۳
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَتْ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي عَلَى الْحَوْضِ حَتَّى أَنْظُرَ مَنْ يَرِدُ عَلَيَّ مِنْكُمْ ، وَسَيُؤْخَذُ نَاسٌ دُونِي ، فَأَقُولُ : يَا رَبِّ مِنِّي وَمِنْ أُمَّتِي ، فَيُقَالُ : " هَلْ شَعَرْتَ مَا عَمِلُوا بَعْدَكَ ، وَاللَّهِ مَا بَرِحُوا يَرْجِعُونَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ " ، فَكَانَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، يَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ أَنْ نَرْجِعَ عَلَى أَعْقَابِنَا أَوْ نُفْتَنَ عَنْ دِينِنَا . أَعْقَابِكُمْ تَنْكِصُونَ ، تَرْجِعُونَ عَلَى الْعَقِبِ .
اسماء بنت ابی بکر روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں حوض پر موجود رہوں گا اور دیکھوں گا کہ تم میں سے کون میرے پاس آتا ہے۔ پھر کچھ لوگوں کو مجھ سے الگ کر دیا جائے گا۔ میں عرض کروں گا کہ اے میرے رب! یہ تو میرے ہی آدمی ہیں اور میری امت کے لوگ ہیں۔مجھ سے کہا جائے گا کہ تمہیں معلوم بھی ہے انہوں نے تمہارے بعد کیا کام کئے تھے؟ واللہ یہ مسلسل الٹے پاؤں لوٹتے رہے۔ (دین اسلام سے پھر گئے) ابن ابی ملیکہ (جو کہ یہ حدیث اسماء سے روایت فرماتے ہیں) کہا کرتے تھے کہ اے اللہ! ہم اس بات سے تیری پناہ مانگتے ہیں کہ ہم الٹے پاؤں (دین سے) لوٹ جائیں یا اپنے دین کے بارے میں فتنہ میں ڈال دئیے جائیں۔ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ سورۃ مومنون میں جو اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے «أعقابكم تنكصون» اس کا معنی بھی یہی ہے کہ تم دین سے اپنی ایڑیوں کے بل الٹے پھر گئے تھے یعنی اسلام سے مرتد ہو گئے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۵۹۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع حوضِ کوثر اور دین سے پلٹنے سے پناہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آپ حوض پر ہوں گے اور دیکھیں گے کہ تم میں سے کون آپ کے پاس آتا ہے۔ پھر کچھ لوگوں کو آپ سے الگ کر دیا جائے گا۔ آپ عرض کریں گے کہ یہ میرے لوگ اور میری امت کے لوگ ہیں۔ جواب آئے گا کہ کیا آپ کو معلوم ہے انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا؟ وہ مسلسل الٹے پاؤں لوٹتے رہے۔ ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ اس کے بعد دعا کرتے تھے کہ اے اللہ! ہم تیری پناہ مانگتے ہیں کہ ہم الٹے پاؤں لوٹ جائیں یا اپنے دین میں فتنے میں ڈال دیے جائیں۔ یہ حدیث دین پر ثابت قدمی کی بڑی دعا سکھاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دین سے پیچھے ہٹنے سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے۔
- حوض پر بعض لوگوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے الگ کیا جائے گا۔
- فتنے سے بچنے کی دعا کرنا مؤمن کے لیے اہم ہے۔
- دین پر مسلسل قائم رہنا ضروری ہے۔
