صحیح بخاری حدیث ۷۰۴۹ - حوض کوثر اور دین میں نئی باتیں
حوض کوثر اور بدعت: دین میں نئی باتوں سے بچنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۷۰۴۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۰۴۹
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ ، لَيُرْفَعَنَّ إِلَيَّ رِجَالٌ مِنْكُمْ ، حَتَّى إِذَا أَهْوَيْتُ لِأُنَاوِلَهُمُ اخْتُلِجُوا دُونِي ، فَأَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، أَصْحَابِي ، يَقُولُ : لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ ".
عبداللہ بن مسعود روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”حوض کوثر پر تم لوگوں کا پیش خیمہ ہوں گا اور تم میں سے کچھ لوگ میری طرف آئیں گے جب میں انہیں (حوض کا پانی) دینے کے لیے جھکوں گا تو انہیں میرے سامنے سے کھینچ لیا جائے گا۔ میں کہوں گا اے میرے رب! یہ تو میری امت کے لوگ ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا آپ کو معلوم نہیں کہ انہوں نے آپ کے بعد دین میں کیا کیا نئی باتیں نکال لی تھیں۔“
صحیح بخاری حدیث ۷۰۴۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آپ حوض کوثر پر اپنی امت سے پہلے موجود ہوں گے۔ کچھ لوگ آپ کی طرف آئیں گے، یہاں تک کہ جب آپ انہیں حوض کا پانی پلانے کے لیے جھکیں گے تو انہیں آپ کے سامنے سے کھینچ لیا جائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہیں گے: اے میرے رب! یہ میری امت کے لوگ ہیں۔ جواب ملے گا کہ آپ کو معلوم نہیں کہ انہوں نے آپ کے بعد دین میں کیا کیا نئی باتیں نکال لی تھیں۔ اس حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ دین کو اسی طرح لینا چاہیے جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا۔ حوض کوثر کی امید رکھنے والا شخص سنت کی پیروی اور دین میں تبدیلی سے بچنے کی فکر رکھتا ہے۔ اس حدیث میں سخت تنبیہ ہے، مگر الفاظ کے اندر وہی بات رکھی گئی ہے جو روایت میں آئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دین میں اپنی طرف سے نئی باتیں نکالنا خطرناک معاملہ ہے۔
- حوض کوثر پر کامیابی کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے وابستگی ضروری ہے۔
- امت سے نسبت کے باوجود عمل اور دین کی حفاظت اہم ہے۔
- دین میں تبدیلی کے انجام سے ڈرنا چاہیے۔
