صحیح بخاری حدیث ۶۵۸۶ - حوضِ کوثر اور دین پر ثابت قدمی
حوضِ کوثر کی حدیث: دین پر قائم رہنے کی تنبیہ
صحیح بخاری : ۶۵۸۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۵۸۶
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَرِدُ عَلَى الْحَوْضِ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِي فَيُحَلَّئُونَ عَنْهُ ، فَأَقُولُ : يَا رَبِّ ، أَصْحَابِي ، فَيَقُولُ : إِنَّكَ لَا عِلْمَ لَكَ بِمَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ ، إِنَّهُمُ ارْتَدُّوا عَلَى أَدْبَارِهِمُ الْقَهْقَرَى " ، وَقَالَ شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ ، يُحَدِّثُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَيُجْلَوْنَ ، وَقَالَ عُقَيْلٌ : فَيُحَلَّئُونَ ، وَقَالَ الزُّبَيْدِيُّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ابن مسیب روایت:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”حوض پر میرے صحابہ کی ایک جماعت آئے گی۔ پھر انہیں اس سے دور کر دیا جائے گا۔ میں عرض کروں گا میرے رب! یہ تو میرے صحابہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تمہیں معلوم نہیں کہ انہوں نے تمہارے بعد کیا کیا نئی چیزیں ایجاد کر لی تھیں، یہ الٹے پاؤں (اسلام سے) واپس لوٹ گئے تھے۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۵۸۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع حوضِ کوثر اور دین پر ثابت قدمی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ حوض پر آپ کے صحابہ میں سے ایک جماعت آئے گی، پھر انہیں وہاں سے دور کر دیا جائے گا۔ آپ عرض کریں گے کہ اے میرے رب! یہ میرے صحابہ ہیں۔ جواب دیا جائے گا کہ آپ کو معلوم نہیں کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا نئی چیزیں ایجاد کر لی تھیں، یہ الٹے پاؤں واپس لوٹ گئے تھے۔ اس حدیث میں حوضِ کوثر کی حدیث، دین سے واپسی، اور بدعت سے بچنے کا بڑا صاف پیغام ہے۔ بندے کو اپنے دین کے بارے میں ڈرتے رہنا چاہیے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیم پر قائم رہنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دین میں نئی باتیں نکالنا خطرناک عمل ہے۔
- حوضِ کوثر پر کامیابی کے لیے دین پر ثابت قدم رہنا ضروری ہے۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کے بعد الٹے پاؤں لوٹنا سخت نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔
- انسان کو اپنے انجام کے بارے میں بے فکر نہیں ہونا چاہیے۔
