صحیح بخاری حدیث ۶۵۸۷ - حوض سے دور کیے جانے والے لوگ
حوضِ کوثر سے دوری: دین سے پلٹنے کی سخت وارننگ
صحیح بخاری : ۶۵۸۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۵۸۷
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنِي هِلَالُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " بَيْنَا أَنَا قَائِمٌ إِذَا زُمْرَةٌ حَتَّى إِذَا عَرَفْتُهُمْ خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ بَيْنِي وَبَيْنِهِمْ ، فَقَالَ : هَلُمَّ ، فَقُلْتُ : أَيْنَ ؟ قَالَ : إِلَى النَّارِ ، وَاللَّهِ قُلْتُ : وَمَا شَأْنُهُمْ ؟ قَالَ : إِنَّهُمُ ارْتَدُّوا بَعْدَكَ عَلَى أَدْبَارِهِمُ الْقَهْقَرَى ، ثُمَّ إِذَا زُمْرَةٌ حَتَّى إِذَا عَرَفْتُهُمْ خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ بَيْنِي وَبَيْنِهِمْ ، فَقَالَ : هَلُمَّ ، قُلْتُ : أَيْنَ ؟ قَالَ : إِلَى النَّارِ ، وَاللَّهِ قُلْتُ : مَا شَأْنُهُمْ ؟ قَالَ : إِنَّهُمُ ارْتَدُّوا بَعْدَكَ عَلَى أَدْبَارِهِمُ الْقَهْقَرَى ، فَلَا أُرَاهُ يَخْلُصُ مِنْهُمْ إِلَّا مِثْلُ هَمَلِ النَّعَمِ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں (حوض پر) کھڑا ہوں گا کہ ایک جماعت میرے سامنے آئے گی اور جب میں انہیں پہچان لوں گا تو ایک شخص (فرشتہ) میرے اور ان کے درمیان سے نکلے گا اور ان سے کہے گا کہ ادھر آؤ۔ میں کہوں گا کہ کدھر؟ وہ کہے گا کہ واللہ جہنم کی طرف۔ میں کہوں گا کہ ان کے حالات کیا ہیں؟ وہ کہے گا کہ یہ لوگ آپ کے بعد الٹے پاؤں (دین سے) واپس لوٹ گئے تھے۔پھر ایک اور گروہ میرے سامنے آئے گا اور جب میں انہیں بھی پہچان لوں گا تو ایک شخص (فرشتہ) میرے اور ان کے درمیان میں سے نکلے گا اور ان سے کہے گا کہ ادھر آؤ۔ میں پوچھوں گا کہ کہاں؟ تو وہ کہے گا، اللہ کی قسم! جہنم کی طرف۔ میں کہوں گا کہ ان کے حالات کیا ہیں؟ فرشتہ کہے گا کہ یہ لوگ آپ کے بعد الٹے پاؤں واپس لوٹ گئے تھے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان گروہوں میں سے ایک آدمی بھی نہیں بچے گا۔ ان سب کو دوزخ میں لے جائیں گے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۵۸۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں حوضِ کوثر کا ذکر بہت سخت انداز میں آیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ آپ کھڑے ہوں گے، ایک جماعت آئے گی، آپ انہیں پہچان لیں گے، پھر ایک فرشتہ انہیں جہنم کی طرف لے جانے کے لیے بلائے گا۔ آپ پوچھیں گے کہ ان کا کیا حال ہے؟ جواب ملے گا کہ یہ آپ کے بعد الٹے پاؤں واپس لوٹ گئے تھے۔ پھر ایک اور گروہ کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوگا۔ اس حدیث کا پیغام یہ ہے کہ صرف ظاہری نسبت کافی نہیں، اصل بات دین پر قائم رہنا ہے۔ حوضِ کوثر کی حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دین چھوڑنا یا اس سے پیچھے ہٹنا انسان کو بہت بڑے خسارے میں ڈال سکتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پہچان کے باوجود بعض لوگ حوض سے دور کیے جائیں گے۔
- دین سے الٹے پاؤں لوٹنا بہت خطرناک انجام کا سبب بن سکتا ہے۔
- ظاہری نسبت کے ساتھ اصل اہمیت دین پر قائم رہنے کی ہے۔
- آخرت کے معاملے میں انسان کو بے خوف نہیں ہونا چاہیے۔
