صحیح بخاری حدیث ۷۰۴۸ - حوض کوثر اور دین پر ثابت قدمی
حوض کوثر کی حدیث: دین سے پلٹنے سے پناہ
صحیح بخاری : ۷۰۴۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۰۴۸
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ قَالَتْ أَسْمَاءُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَنَا عَلَى حَوْضِي أَنْتَظِرُ مَنْ يَرِدُ عَلَيَّ، فَيُؤْخَذُ بِنَاسٍ مِنْ دُونِي فَأَقُولُ أُمَّتِي. فَيَقُولُ لاَ تَدْرِي، مَشَوْا عَلَى الْقَهْقَرَى». قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ أَنْ نَرْجِعَ عَلَى أَعْقَابِنَا أَوْ نُفْتَنَ.
ابن ابی ملیکہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”(قیامت کے دن) میں حوض کوثر پر ہوں گا اور اپنے پاس آنے والوں کا انتظار کرتا رہوں گا پھر (حوض کوثر) پر کچھ لوگوں کو مجھ تک پہنچنے سے پہلے ہی گرفتار کر لیا جائے گا تو میں کہوں گا کہ یہ تو میری امت کے لوگ ہیں۔ جواب ملے گا کہ آپ کو معلوم نہیں یہ لوگ الٹے پاؤں پھر گئے تھے۔“ ابن ابی ملیکہ اس حدیث کو روایت کرتے وقت دعا کرتے ”اے اللہ! ہم تیری پناہ مانگتے ہیں کہ ہم الٹے پاؤں پھر جائیں یا فتنہ میں پڑ جائیں۔“
صحیح بخاری حدیث ۷۰۴۸ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع حوض کوثر اور دین پر ثابت قدمی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آپ اپنے حوض پر ہوں گے اور آنے والوں کا انتظار کریں گے۔ کچھ لوگ آپ تک پہنچنے سے پہلے روک لیے جائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہیں گے کہ یہ میری امت کے لوگ ہیں، مگر جواب ملے گا کہ آپ کو معلوم نہیں، یہ لوگ الٹے پاؤں پھر گئے تھے۔ حدیث کے راوی ابن ابی ملیکہ اس کو بیان کرتے وقت دعا کرتے تھے کہ اے اللہ! ہم تیری پناہ مانگتے ہیں کہ ہم الٹے پاؤں پھر جائیں یا فتنے میں پڑ جائیں۔ اس سے صاف سبق ملتا ہے کہ صرف نسبت کافی نہیں؛ دین پر قائم رہنا اور فتنے سے بچنا ضروری ہے۔ حوض کوثر کی حدیث انسان کو اپنے ایمان اور عمل کی حفاظت کی فکر دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دین پر ثابت قدم رہنا بہت اہم ہے۔
- فتنے سے بچنے کے لیے اللہ سے پناہ مانگنی چاہیے۔
- حوض کوثر پر پہنچنے کی امید کے ساتھ دین میں تبدیلی اور پلٹنے سے ڈرنا چاہیے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت سے نسبت ذمہ داری بھی لاتی ہے۔
