صحیح بخاری حدیث ۶۶۲۶ - قسم کا کفارہ اور گھر والوں کا حق

قسم کا کفارہ: گھر والوں کے حق میں ضد نہ کریں

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۶۲۶

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ اسْتَلَجَّ فِي أَهْلِهِ بِيَمِينٍ ، فَهُوَ أَعْظَمُ إِثْمًا لِيَبَرَّ ، يَعْنِي : الْكَفَّارَةَ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”وہ شخص جو اپنے گھر والوں کے معاملہ میں قسم پر اڑا رہتا ہے وہ اس سے بڑا گناہ کرتا ہے کہ اس قسم کا کفارہ ادا کر دے۔“

صحیح بخاری حدیث ۶۶۲۶ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع قسم کا کفارہ اور گھر والوں کے ساتھ درست رویہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اپنے گھر والوں کے معاملے میں قسم پر اڑا رہتا ہے، وہ اس سے بڑا گناہ کرتا ہے کہ وہ اس قسم کا کفارہ ادا کر دے۔ عام فہم بات یہ ہے کہ کبھی انسان غصے یا ضد میں کوئی قسم کھا لیتا ہے، پھر گھر والوں کو تکلیف ہوتی ہے، مگر وہ اپنی بات پر اڑا رہتا ہے۔ اس حدیث میں یہی سمجھایا گیا ہے کہ ایسی قسم کو انا کا مسئلہ نہ بنایا جائے۔ اگر گھر والوں کے حق میں بہتر بات کفارہ دے کر قسم ختم کرنا ہے تو اسی طرف آنا چاہیے۔ قسم کی حدیث کا پیغام یہ ہے کہ دین انسان کو ضد نہیں، انصاف اور نرمی سکھاتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • گھر والوں کے معاملے میں ضد پر قائم رہنا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
  • اگر قسم کسی بہتر کام میں رکاوٹ بن جائے تو کفارہ دے کر بہتر کام کیا جائے۔
  • قسم کو انا اور ضد کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں