صحیح بخاری حدیث ۶۶۲۵ - گھر والوں کے معاملے میں قسم پر اصرار
گھر والوں کے معاملے میں قسم پر اڑنا: کفارہ کا درست راستہ
صحیح بخاری : ۶۶۲۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۶۲۵
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَاللَّهِ لَأَنْ يَلِجَّ أَحَدُكُمْ بِيَمِينِهِ فِي أَهْلِهِ ، آثَمُ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ أَنْ يُعْطِيَ كَفَّارَتَهُ الَّتِي افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَيْهِ " .
پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ واللہ (بسا اوقات) اپنے گھر والوں کے معاملہ میں تمہارا اپنی قسموں پر اصرار کرتے رہنا اللہ کے نزدیک اس سے زیادہ گناہ کی بات ہوتی ہے کہ (قسم توڑ کر) اس کا وہ کفارہ ادا کر دیا جائے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر فرض کیا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۶۲۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کے بارے میں ایک اہم گھریلو مسئلہ سمجھایا۔ فرمایا کہ آدمی کا اپنے گھر والوں کے معاملے میں اپنی قسم پر اصرار کرتے رہنا اللہ کے نزدیک اس سے زیادہ گناہ کی بات ہو سکتا ہے کہ وہ قسم توڑ کر وہ کفارہ ادا کر دے جو اللہ نے اس پر فرض کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ قسم کو معمولی سمجھا جائے، بلکہ یہ ہے کہ گھر کے معاملے میں ضد، سختی اور قسم پر جمے رہنے سے اگر بھلائی رک رہی ہو یا گھر والوں کو تکلیف ہو رہی ہو تو شریعت نے کفارہ کا راستہ دیا ہے۔ اس حدیث کا موضوع قسم، کفارہ یمین، گھر والوں کے حقوق، اور بہتر رویہ ہے۔ یہ روایت نرم دلی اور دینی سمجھ کے ساتھ فیصلہ کرنے کی تعلیم دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- گھر والوں کے معاملے میں قسم پر ضد کرنا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
- اللہ نے قسم کے لیے کفارہ مقرر کیا ہے۔
- کبھی کفارہ دے کر بہتر راستہ اختیار کرنا زیادہ درست ہوتا ہے۔
- خاندانی معاملات میں سختی کے بجائے خیر اور انصاف دیکھنا چاہیے۔
