صحیح بخاری حدیث ۶۶۳۵ - قبائل کی فضیلت

اسلم، غفار، مزینہ اور جہینہ کی فضیلت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۶۳۵

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَهْبٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَ أَسْلَمُ ، وَغِفَارُ ، وَمُزَيْنَةُ ، وَجُهَيْنَةُ ، خَيْرًا مِنْ ، تَمِيمٍ ، وَعَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ ، وَغَطَفَانَ ، وَأَسَدٍ ، خَابُوا وَخَسِرُوا " ، قَالُوا : نَعَمْ ، فَقَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنَّهُمْ خَيْرٌ مِنْهُمْ " .

´مجھ سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے وہب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن ابی یعقوب نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے اور ان سے ان کے والد نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بھلا بتلاؤ اسلم، غفار، مزینہ اور جہینہ کے قبائل اگر تمیم، عامر بن صعصعہ، غطفان اور اسد والوں سے بہتر ہوں تو یہ تمیم اور عامر اور غطفان اور اسد والے گھاٹے میں پڑے اور نقصان میں رہے یا نہیں۔ صحابہ نے عرض کیا: جی ہاں بیشک۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر پھر فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے (وہ پہلے جن قبائل کا ذکر ہوا) ان (تمیم وغیرہ) سے بہتر ہیں۔

صحیح بخاری حدیث ۶۶۳۵ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع قبائل کی فضیلت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ اگر اسلم، غفار، مزینہ اور جہینہ قبائل تمیم، عامر بن صعصعہ، غطفان اور اسد سے بہتر ہوں تو کیا دوسرے گھاٹے میں نہیں رہیں گے؟ صحابہ نے عرض کیا: جی ہاں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کے ساتھ فرمایا کہ پہلے ذکر کیے گئے قبائل ان سے بہتر ہیں۔ اس حدیث میں کسی نسب پر عمومی فخر یا نفرت کی بات نہیں، بلکہ خاص قبائل کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے فضیلت کا بیان ہے۔ قبائل کی فضیلت والی حدیث ہمیں یہ بھی سمجھاتی ہے کہ عزت کا فیصلہ صرف مشہور ناموں یا بڑی نسبتوں سے نہیں ہوتا، بلکہ اللہ اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے معیار سے ہوتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے بعض قبائل کی فضیلت بیان فرمائی۔
  • ظاہری شہرت ہمیشہ اصل فضیلت کا معیار نہیں ہوتی۔
  • کسی کے بارے میں فیصلہ نبی صلى الله عليه وسلم کے بیان کے مطابق قبول کرنا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں