صحیح بخاری حدیث ۶۶۴۷ - حکم سن کر فوراً عمل کرنے کی مثال

غیر اللہ کی قسم چھوڑنے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی فوری پیروی

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۶۴۷

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : قَالَ سَالِمٌ : قَالَ ابْنُ عُمَرَ : سَمِعْتُ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ " ، قَالَ عُمَرُ : فَوَاللَّهِ مَا حَلَفْتُ بِهَا مُنْذُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاكِرًا ، وَلَا آثِرًا ، قَالَ مُجَاهِدٌ : أَوْ أَثَارَةٍ مِنْ عِلْمٍ سورة الأحقاف آية 4 ، يَأْثُرُ عِلْمًا ، تَابَعَهُ عُقَيْلٌ ، وَالزُّبَيْدِيُّ ، وَإِسْحَاقُ الْكَلْبِيُّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ ، وَمَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عُمَرَ .

عمر روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں باپ دادوں کی قسم کھانے سے منع کیا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا واللہ! پھر میں نے ان کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ممانعت سننے کے بعد کبھی قسم نہیں کھائی نہ اپنی طرف سے غیر اللہ کی قسم کھائی نہ کسی دوسرے کی زبان سے نقل کی۔مجاہد نے کہا سورۃ الاحقاف میں جو «أثرة من علم‏» ہے اس کا معنی یہ ہے کہ علم کی کوئی بات نقل کرتا ہو۔ یونس کے ساتھ اس حدیث کو عقیل اور محمد بن ولید زبیدی اور اسحاق بن یحییٰ کلبی نے بھی زہری سے روایت کیا اور سفیان بن عیینہ اور معمر نے اس کو زہری سے روایت کیا، انہوں نے سالم سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ نے عمر رضی اللہ عنہ کو غیر اللہ کی قسم کھاتے سنا۔ روایت میں لفظ «اثارة» کی تفسیر «اثرا» کی مناسبت سے بیان کر دی کیونکہ دونوں کا مادہ ایک ہی ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۶۶۴۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں قسم کے حکم کے ساتھ ایک عملی نمونہ بھی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں باپ دادوں کی قسم کھانے سے منع فرمایا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بات سن کر کہا کہ اس کے بعد انہوں نے کبھی ایسی قسم نہیں کھائی، نہ اپنی طرف سے اور نہ کسی کی بات نقل کرتے ہوئے۔ اس سے غیر اللہ کی قسم کی ممانعت بھی واضح ہوتی ہے اور حکم سن کر فوراً عمل کرنے کا مزاج بھی سامنے آتا ہے۔ عام فہم الفاظ میں یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ جب دین کی بات واضح ہو جائے تو پرانی عادت کو چھوڑ دینا چاہیے۔ قسم، زبان اور عقیدے کا معاملہ ہے، اس لیے اسے ہلکا نہیں لینا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دینی حکم واضح ہو جائے تو اسے فوراً قبول کرنا چاہیے۔
  • غیر اللہ کی قسم اپنی طرف سے بھی نہیں کھانی چاہیے۔
  • دوسروں کی بات نقل کرتے وقت بھی غلط قسم دہرانے سے بچنا چاہیے۔
  • صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حکم سن کر اپنی عادت بدل دیتے تھے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں