صحیح بخاری حدیث ۶۶۴۶ - غیر اللہ کی قسم سے بچنے کی حدیث
قسم صرف اللہ کے نام کی: غیر اللہ کی قسم سے بچنے کی اہم حدیث
صحیح بخاری : ۶۶۴۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۶۴۶
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَدْرَكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَهُوَ يَسِيرُ فِي رَكْبٍ ، يَحْلِفُ بِأَبِيهِ ، فَقَالَ : " أَلَا إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ ، مَنْ كَانَ حَالِفًا فَلْيَحْلِفْ بِاللَّهِ ، أَوْ لِيَصْمُتْ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو وہ سواروں کی ایک جماعت کے ساتھ چل رہے تھے اور اپنے باپ کی قسم کھا رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خبردار تحقیق اللہ تعالیٰ نے تمہیں باپ دادوں کی قسم کھانے سے منع کیا ہے، جسے قسم کھانی ہے اسے (بشرط صدق) چاہئے کہ اللہ ہی کی قسم کھائے ورنہ چپ رہے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۶۴۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع قسم کا صحیح طریقہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اپنے والد کی قسم کھاتے سنا تو صاف فرما دیا کہ اللہ تعالیٰ نے باپ دادوں کی قسم کھانے سے منع فرمایا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان کی زبان پر قسم آئے تو وہ اللہ ہی کے نام کی ہو۔ غیر اللہ کی قسم، باپ کی قسم، دادا کی قسم یا کسی اور مخلوق کی قسم سے بچنا چاہیے۔ حدیث کا جملہ بہت سادہ ہے: جسے قسم کھانی ہو وہ اللہ کی قسم کھائے، ورنہ خاموش رہے۔ اس میں زبان کی حفاظت، عقیدے کی صفائی اور قسم کو معمولی بات نہ سمجھنے کی تعلیم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قسم کھانی ہو تو صرف اللہ کے نام کی قسم کھانی چاہیے۔
- باپ دادا یا کسی مخلوق کی قسم سے منع کیا گیا ہے۔
- بلا ضرورت قسم کھانے کے بجائے خاموش رہنا بہتر ہے۔
- زبان کی چھوٹی عادت بھی دین کے حکم کے مطابق درست کی جانی چاہیے۔
