صحیح بخاری حدیث ۶۶۷۷ - زمین کے جھگڑے میں جھوٹی قسم
زمین کے دعوے میں جھوٹی قسم کی سخت وعید
صحیح بخاری : ۶۶۷۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۶۷۷
فَدَخَلَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ ، فَقَالَ : مَا حَدَّثَكُمْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، فَقَالُوا : كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : فِيَّ أُنْزِلَتْ ، كَانَتْ لِي بِئْرٌ فِي أَرْضِ ابْنِ عَمٍّ لِي ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " بَيِّنَتُكَ أَوْ يَمِينُهُ " ، قُلْتُ : إِذًا يَحْلِفُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينِ صَبْرٍ وَهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ ، يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ ، لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ " .
عبداللہ یہ حدیث بیان کر چکے تھے، اتنے میں اشعث بن قیس آئے اور پوچھا کہ ابوعبدالرحمٰن نے تم لوگوں سے کیا حدیث بیان کی ہے؟ لوگوں نے کہا اس اس مضمون کی۔ انہوں نے کہا اجی یہ آیت تو میرے ہی بارے میں نازل ہوئی تھی میرے ایک چچازاد بھائی کی زمین میں میرا ایک کنواں تھا اس کے جھگڑے کے سلسلہ میں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنے گواہ لاؤ ورنہ مدعاعلیہ سے قسم لی جائے گی۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر وہ تو جھوٹی قسم کھا لے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے جھوٹی قسم بدنیتی کے ساتھ اس لیے کھائی کہ اس کے ذریعہ کسی مسلمان کا مال ہڑپ کر جائے تو قیامت کے دن اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اللہ اس پر انتہائی غضب ناک ہو گا۔
صحیح بخاری حدیث ۶۶۷۷ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع جھوٹی قسم اور حق کا دعویٰ ہے۔ اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ان کے چچازاد بھائی کی زمین میں ان کا ایک کنواں تھا۔ وہ اس جھگڑے کے بارے میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے پاس آئے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ تم گواہ لاؤ، ورنہ دوسرے فریق سے قسم لی جائے گی۔ اشعث رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ وہ جھوٹی قسم کھا لے گا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جو شخص بدنیتی کے ساتھ جھوٹی قسم کھا کر کسی مسلمان کا مال ہڑپ کرے، وہ قیامت کے دن اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر غضب ناک ہو گا۔ اس حدیث میں دعویٰ، گواہی، قسم، زمین کا جھگڑا اور حق تلفی کا مسئلہ واضح ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دعویٰ کرنے والے سے گواہ مانگے گئے، یہ عدل کا طریقہ ہے۔
- گواہ نہ ہوں تو دوسرے فریق کی قسم کا ذکر روایت میں آیا ہے۔
- جھوٹی قسم سے مال لینا سخت وعید کا سبب بتایا گیا۔
- زمین یا مال کے جھگڑے میں سچائی اور گواہی کی اہمیت واضح ہے۔
