صحیح بخاری حدیث ۷۱۸۳ - جھوٹی قسم کا وبال
جھوٹی قسم کی حدیث: مال کے لیے قسم بیچنا خطرناک ہے
صحیح بخاری : ۷۱۸۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۱۸۳
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، وَالْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَحْلِفُ عَلَى يَمِينِ صَبْرٍ يَقْتَطِعُ مَالًا وَهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا سورة آل عمران آية 77 .
عبداللہ بن مسعود روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص ایسی قسم کھائے جو جھوٹی ہو جس کے ذریعہ وہ کسی دوسرے کا مال مار لے تو اللہ سے وہ اس حال میں ملے کا کہ وہ اس پر غضبناک ہو گا۔“ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت (اس کی تصدیق میں) نازل فرمائی «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا» ”بلاشبہ جو لوگ اللہ کے عہد اور اس کی قسموں کو تھوڑی پونجی کے بدلے خریدتے ہیں“ الآية.۔
صحیح بخاری حدیث ۷۱۸۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع جھوٹی قسم اور مال ہے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص ایسی جھوٹی قسم کھائے جس کے ذریعے وہ کسی دوسرے کا مال لے لے، وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر غضبناک ہو گا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی جس میں اللہ کے عہد اور قسموں کو تھوڑی قیمت کے بدلے بیچنے والوں کا ذکر ہے۔ اس حدیث میں مال کے لیے جھوٹی قسم کھانے کا انجام بہت سخت بتایا گیا ہے۔ یہاں اصل مسئلہ صرف جھوٹ نہیں، بلکہ جھوٹ کو قسم کے ساتھ مضبوط کر کے کسی کا مال ہڑپ کرنا ہے۔ جھوٹی قسم کی حدیث انسان کو یاد دلاتی ہے کہ مال وقتی فائدہ دے سکتا ہے، مگر غلط طریقے سے لیا گیا مال آخرت میں وبال بن سکتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جھوٹی قسم کے ذریعے مال لینا سخت وعید کا سبب ہے۔
- حدیث میں اللہ کے غضب کا ذکر آیا ہے۔
- قسم کو معمولی دنیاوی فائدے کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
- دوسرے کا مال لینے میں سچائی اور دیانت لازم ہے۔
