صحیح بخاری حدیث ۲۶۷۳ - ناجائز مال کے لیے قسم کا انجام
ناجائز مال کے لیے قسم: دل کو ہلا دینے والی حدیث
صحیح بخاری : ۲۶۷۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۶۷۳
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالًا لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ " .
عبداللہ بن مسعود روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص قسم اس لیے کھاتا ہے تاکہ اس کے ذریعہ کسی کا مال (ناجائز طور پر) ہضم کر جائے تو وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ پاک اس پر سخت غضبناک ہو گا۔“
صحیح بخاری حدیث ۲۶۷۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اس لیے قسم کھاتا ہے کہ اس کے ذریعے کسی کا مال ناجائز طور پر ہضم کر جائے، وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر سخت غضبناک ہوگا۔ الفاظ مختصر ہیں مگر پیغام بہت بڑا ہے۔ اس روایت کا اصل موضوع قسم، مال، حق تلفی اور آخرت کی جواب دہی ہے۔ کبھی انسان سمجھتا ہے کہ قسم کھا کر معاملہ اپنے حق میں کر لینا آسان ہے، لیکن حدیث بتاتی ہے کہ جھوٹی یا ناجائز قسم آخرت میں بہت بھاری پڑ سکتی ہے۔ مال کا مسئلہ ہو، قرض ہو، زمین ہو یا کوئی حق؛ مسلمان کو سچ پر رہنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قسم کو ناجائز مال لینے کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے۔
- دوسرے کا مال ہضم کرنا آخرت کی جواب دہی کا سبب ہے۔
- مختصر دنیاوی فائدہ اللہ کے غضب کے قابل نہیں۔
- مالی معاملے میں سچائی اور انصاف ضروری ہے۔
