صحیح بخاری حدیث ۶۶۵۹ - جھوٹی قسم سے مال لینے کی وعید
جھوٹی قسم کھا کر مال لینا: سخت وعید والی حدیث
صحیح بخاری : ۶۶۵۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۶۵۹
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، وَمَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ كَاذِبَةٍ ، يَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ رَجُلٍ مُسْلِمٍ ، أَوْ قَالَ : أَخِيهِ ، لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ " ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَصْدِيقَهُ : إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ سورة آل عمران آية 77 .
عبداللہ بن مسعود روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے جھوٹی قسم اس مقصد سے کھائی کہ کسی مسلمان کا مال اس کے ذریعہ ناجائز طریقے پر حاصل کرے تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر غضب ناک ہو گا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تصدیق نازل کی (قرآن مجید میں کہ) «إن الذين يشترون بعهد الله» بلاشبہ وہ لوگ جو اللہ کے عہد کے ذریعہ خریدتے ہیں۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۶۵۹ کا خلاصہ
اس حدیث کا موضوع جھوٹی قسم اور ناجائز مال ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص جھوٹی قسم کھائے تاکہ کسی مسلمان کا مال ناجائز طور پر حاصل کرے، وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر غضب ناک ہو گا۔ پھر قرآن کی آیت کا ذکر آیا کہ جو لوگ اللہ کے عہد کے بدلے معمولی فائدہ خریدتے ہیں۔ اس حدیث سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ قسم کو مال بٹورنے کا ذریعہ بنانا بہت سخت گناہ ہے۔ جھوٹی قسم صرف زبان کا جھوٹ نہیں، بلکہ کسی کا حق چھیننے کا ذریعہ بن جائے تو معاملہ اور سنگین ہو جاتا ہے۔ مسلمان کو حق، دیانت اور مال کے معاملے میں بہت احتیاط کرنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جھوٹی قسم کھا کر کسی کا مال لینا سخت گناہ ہے۔
- قسم کو دنیاوی فائدے کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے۔
- مسلمان کے مال کا حق ناحق طریقے سے نہیں لیا جا سکتا۔
- اللہ کے سامنے جواب دہی کا احساس مال کے معاملات میں ضروری ہے۔
