صحیح بخاری حدیث ۶۶۶۰ - کنویں کے جھگڑے اور قسم کا واقعہ
کنویں کے جھگڑے میں جھوٹی قسم کا خطرہ
صحیح بخاری : ۶۶۶۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۶۶۰
قَالَ سُلَيْمَانُ فِي حَدِيثِهِ : فَمَرَّ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ ، فَقَالَ : مَا يُحَدِّثُكُمْ عَبْدُ اللَّهِ ؟ قَالُوا لَهُ : فَقَالَ الْأَشْعَثُ : نَزَلَتْ فِيَّ ، وَفِي صَاحِبٍ لِي ، فِي بِئْرٍ كَانَتْ بَيْنَنَا .
سلیمان روایت:
پھر اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ وہاں سے گزرے اور پوچھا کہ عبداللہ تم سے کیا بیان کر رہے تھے۔ ہم نے ان سے بیان کیا تو اشعث رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ آیت میرے اور میرے ایک ساتھی کے بارے میں نازل ہوئی تھی، ایک کنویں کے سلسلے میں ہم دونوں کا جھگڑا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۶۶۶۰ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلی حدیث کے پس منظر کا ایک حصہ بیان کرتی ہے۔ حضرت اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کیا حدیث بیان کر رہے تھے۔ جب انہیں بتایا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ آیت میرے اور میرے ایک ساتھی کے بارے میں نازل ہوئی تھی، ایک کنویں کے سلسلے میں ہم دونوں کا جھگڑا تھا۔ اس دیے گئے متن سے اصل بات یہ سامنے آتی ہے کہ مال، زمین، پانی یا کنویں جیسے حقوق کے جھگڑوں میں قسم کا معاملہ بہت حساس ہے۔ انسان اگر ذاتی دعوے میں قسم کو استعمال کرے تو اسے اللہ کے سامنے جواب دہی یاد رکھنی چاہیے۔ حق کا فیصلہ سچ، دلیل اور دیانت سے ہونا چاہیے، نہ کہ جھوٹی قسم سے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مالی یا زمینی جھگڑوں میں قسم بہت سنجیدہ معاملہ ہے۔
- حق کے دعوے میں سچائی اور دیانت لازم ہے۔
- دوسرے کے حق پر قبضہ کرنے کے لیے قسم استعمال نہیں کرنی چاہیے۔
- صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آیات کے سبب اور اپنے واقعات بیان کرتے تھے۔
