صحیح بخاری حدیث ۶۶۵۲ - لعنت اور کفر کے الزام سے بچنے کی حدیث

مومن پر لعنت اور کفر کا الزام: زبان کی سخت حفاظت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۶۵۲

حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ مِلَّةِ الْإِسْلَامِ ، فَهُوَ كَمَا قَالَ ، قَالَ : وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ ، عُذِّبَ بِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ ، وَلَعْنُ الْمُؤْمِنِ ، كَقَتْلِهِ ، وَمَنْ رَمَى مُؤْمِنًا بِكُفْرٍ ، فَهُوَ كَقَتْلِهِ " .

ثابت بن ضحاک روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو اسلام کے سوا کسی اور مذہب پر قسم کھائے پس وہ ایسا ہی ہے جیسی کہ اس نے قسم کھائی ہے اور جو شخص اپنے نفس کو کسی چیز سے ہلاک کرے وہ دوزخ میں اسی چیز سے عذاب دیا جاتا رہے گا اور مومن پر لعنت بھیجنا اس کو قتل کرنے کے برابر ہے اور جس نے کسی مومن پر کفر کا الزام لگایا پس وہ بھی اس کے قتل کرنے کے برابر ہے۔“

صحیح بخاری حدیث ۶۶۵۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں زبان کے کئی خطرناک استعمالات سے خبردار کیا گیا ہے۔ جو شخص اسلام کے سوا کسی اور مذہب پر قسم کھائے، اس کے بارے میں سخت الفاظ آئے ہیں۔ جو اپنے آپ کو کسی چیز سے ہلاک کرے، اسے اسی چیز سے عذاب کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسی طرح مومن پر لعنت بھیجنا اس کے قتل کے برابر کہا گیا، اور کسی مومن پر کفر کا الزام لگانا بھی اسی طرح سخت قرار دیا گیا۔ اس حدیث کا اصل سبق یہ ہے کہ مسلمان کی زبان بے قابو نہیں ہونی چاہیے۔ کفر کا فتویٰ، لعنت، خودکشی کی باتیں اور غیر اسلامی قسمیں معمولی جملے نہیں۔ یہ سب بڑے سنگین الفاظ ہیں، اس لیے بولنے سے پہلے رکنا ضروری ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مومن پر لعنت بھیجنا بہت سخت گناہ کے طور پر بیان ہوا ہے۔
  • کسی مومن پر کفر کا الزام لگانے میں شدید احتیاط چاہیے۔
  • غیر اسلامی طریقے کی قسم سے بچنا چاہیے۔
  • اپنی جان کو نقصان پہنچانا سخت وعید کا سبب ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں