صحیح بخاری حدیث ۶۶۶۸ - جنگ احد میں معافی
جنگ احد، غلط فہمی اور حذیفہؓ کی معافی
صحیح بخاری : ۶۶۶۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۶۶۸
حَدَّثَنَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " هُزِمَ الْمُشْرِكُونَ يَوْمَ أُحُدٍ هَزِيمَةً تُعْرَفُ فِيهِمْ ، فَصَرَخَ إِبْلِيسُ : أَيْ عِبَادَ اللَّهِ أُخْرَاكُمْ فَرَجَعَتْ أُولَاهُمْ فَاجْتَلَدَتْ هِيَ وَأُخْرَاهُمْ " ، فَنَظَرَ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ ، فَإِذَا هُوَ بِأَبِيهِ ، فَقَالَ : أَبِي أَبِي ، قَالَتْ : " فَوَاللَّهِ مَا انْحَجَزُوا حَتَّى قَتَلُوهُ " ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ : غَفَرَ اللَّهُ لَكُمْ ، قَالَ عُرْوَةُ : فَوَاللَّهِ مَا زَالَتْ فِي حُذَيْفَةَ مِنْهَا بَقِيَّةُ خَيْرٍ حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ .
عائشہ روایت:
جب احد کی لڑائی میں مشرک شکست کھا گئے اور اپنی شکست ان میں مشہور ہو گئی تو ابلیس نے چیخ کر کہا (مسلمانوں سے) کہ اے للہ کے بندو! پیچھے دشمن ہے چنانچہ آگے کے لوگ پیچھے کی طرف پل پڑے اور پیچھے والے (مسلمانوں ہی سے) لڑ پڑے۔اس حالت میں حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ لوگ ان کے مسلمان والد کو بےخبری میں مار رہے ہیں تو انہوں نے مسلمانوں سے کہا کہ یہ تو میرے والد ہیں جو مسلمان ہیں، میرے والد! عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ اللہ کی قسم لوگ پھر بھی باز نہیں آئے اور آخر انہیں قتل کر ہی ڈالا۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا، اللہ تمہاری مغفرت کرے۔ عروہ نے بیان کیا کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ کو اپنے والد کی اس طرح شہادت کا آخر وقت تک رنج اور افسوس ہی رہا یہاں تک کہ وہ اللہ سے جا ملے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۶۶۸ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع معافی اور جنگی غلط فہمی ہے۔ روایت میں ہے کہ احد کے دن جب مشرکین کو شکست ہوئی تو ابلیس نے آواز دی کہ پیچھے دشمن ہے۔ آگے والے مسلمان پلٹے اور پیچھے والوں سے لڑائی کی صورت بن گئی۔ اسی افراتفری میں حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ لوگ ان کے والد کو، جو مسلمان تھے، بے خبری میں مار رہے ہیں۔ انہوں نے پکارا کہ یہ میرے والد ہیں، مگر لوگ نہ رکے اور وہ شہید ہو گئے۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تمہاری مغفرت کرے۔ اس حدیث میں جنگ احد، حذیفہ رضی اللہ عنہ، غلط فہمی، صبر اور معافی کا پہلو موجود ہے، مگر روایت میں ان کے دل کے رنج کا ذکر بھی آتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- افراتفری میں غلط فہمی بڑے نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔
- حذیفہؓ نے سخت صدمے کے باوجود مسلمانوں کے لیے مغفرت کی دعا کی۔
- روایت میں صبر کے ساتھ انسانی دکھ اور رنج کا بھی ذکر ہے۔
- خبر اور آواز سن کر فوراً عمل کرنے سے پہلے معاملہ سمجھنا ضروری ہے۔
