صحیح بخاری حدیث ۶۶۷۱ - نماز میں شک اور سجدہ سہو

نماز میں کمی یا زیادتی کا شک ہو تو کیا کریں؟

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۶۷۱

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، سَمِعَ عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ عَبْدِ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، صَلَّى بِهِمْ صَلَاةَ الظُّهْرِ ، فَزَادَ أَوْ نَقَصَ مِنْهَا ، قَالَ مَنْصُورٌ : لَا أَدْرِي إِبْرَاهِيمُ ، وَهِمَ أَمْ ، عَلْقَمَةُ ، قَالَ : قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ : أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ ؟ قَالَ : " وَمَا ذَاكَ " ، قَالُوا : صَلَّيْتَ كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : " فَسَجَدَ بِهِمْ سَجْدَتَيْنِ ، ثُمَّ قَالَ : " هَاتَانِ السَّجْدَتَانِ لِمَنْ لَا يَدْرِي زَادَ فِي صَلَاتِهِ أَمْ نَقَصَ ، فَيَتَحَرَّى الصَّوَابَ : فَيُتِمُّ مَا بَقِيَ ، ثُمَّ يَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ " .

ابن مسعود روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ظہر کی نماز پڑھائی اور نماز میں کوئی چیز زیادہ یا کم کر دی۔ منصور نے بیان کیا کہ مجھے معلوم نہیں ابراہیم کو شبہ ہوا تھا یا علقمہ کو۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ یا رسول اللہ! نماز میں کچھ کمی کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا، کیا بات ہے؟ لوگوں نے کہا کہ آپ نے اس اس طرح نماز پڑھائی ہے۔بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ دو سجدے (سہو کے) کئے اور فرمایا یہ دو سجدے اس شخص کے لیے ہیں جسے یقین نہ ہو کہ اس نے اپنی نماز میں کمی یا زیادہ کر دی ہے اسے چاہئے کہ صحیح بات تک پہنچنے کے لیے ذہن پر زور ڈالے اور جو باقی رہ گیا ہو اسے پورا کرے پھر دو سجدے (سہو کے) کر لے۔

صحیح بخاری حدیث ۶۶۷۱ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع نماز میں شک اور سجدہ سہو ہے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی اور نماز میں کچھ زیادہ یا کم ہو گیا۔ لوگوں نے عرض کیا کہ کیا نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے پوچھا: کیا بات ہے؟ جب بتایا گیا تو آپ صلى الله عليه وسلم نے ان کے ساتھ دو سجدے کیے۔ پھر فرمایا کہ یہ دو سجدے اس شخص کے لیے ہیں جسے یقین نہ ہو کہ اس نے نماز میں کمی کی یا زیادتی۔ اسے چاہیے کہ صحیح بات تک پہنچنے کی کوشش کرے، جو باقی ہو اسے پورا کرے، پھر دو سجدے کرے۔ یہ حدیث نماز میں شک، کمی، زیادتی اور سجدہ سہو کا سیدھا طریقہ بتاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نماز میں شک ہو تو بے توجہی کے بجائے صحیح بات معلوم کرنے کی کوشش کی جائے۔
  • کمی رہ گئی ہو تو اسے پورا کرنے کا ذکر حدیث میں ہے۔
  • کمی یا زیادتی کے شک پر دو سجدہ سہو بتائے گئے ہیں۔
  • صحابہؓ نے ادب کے ساتھ نبی صلى الله عليه وسلم سے نماز کے بارے میں پوچھا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں