صحیح بخاری حدیث ۶۶۷۲ - بھول پر مواخذہ نہیں
لا تؤاخذني بما نسيت: بھول کی حدیث
صحیح بخاری : ۶۶۷۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۶۷۲
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، قَالَ : قُلْتُ : لِابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ حَدَّثَنَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا تُؤَاخِذْنِي بِمَا نَسِيتُ وَلا تُرْهِقْنِي مِنْ أَمْرِي عُسْرًا سورة الكهف آية 73 ، قَالَ : كَانَتِ الْأُولَى مِنْ مُوسَى نِسْيَانًا " .
ابی بن کعب روایت:
´ہم سے امام حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، کہا مجھ کو سعید بن جبیر نے خبر دی، کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے بیان کیا کہ ہم سے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا،` انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آیت «لا تؤاخذني بما نسيت ولا ترهقني من أمري عسرا» کے متعلق کہ پہلی مرتبہ اعتراض موسیٰ علیہ السلام سے بھول کر ہوا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۶۶۷۲ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع بھول چوک ہے۔ روایت میں آیت لا تؤاخذني بما نسيت ولا ترهقني من أمري عسرا کا ذکر ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا کہ پہلی مرتبہ اعتراض موسیٰ علیہ السلام سے بھول کر ہوا تھا۔ اس حدیث میں پورا قصہ تفصیل سے نہیں، بلکہ خاص طور پر اس پہلے اعتراض کو نسیان، یعنی بھول، قرار دینے کی بات آئی ہے۔ اس لیے اس کی تشریح بھی اسی نکتے تک محدود رہنی چاہیے۔ بھول کی حدیث، موسیٰ علیہ السلام اور خضر علیہ السلام کا واقعہ، اور لا تؤاخذني بما نسيت جیسے سرچ الفاظ اس روایت سے جڑے ہیں۔ عام فہم بات یہ ہے کہ کبھی انسان سے بات یاد نہ رہنے کی وجہ سے بھی کوئی عمل ہو جاتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث میں موسیٰ علیہ السلام کے پہلے اعتراض کو بھول بتایا گیا ہے۔
- بھول چوک کو جان بوجھ کر کیے گئے عمل جیسا نہیں سمجھنا چاہیے۔
- قرآنی آیت کے ایک حصے کی تشریح نبی صلى الله عليه وسلم سے نقل ہوئی ہے۔
- علمی بات کو روایت کے الفاظ تک محدود رکھنا چاہیے۔
