صحیح مسلم حدیث ۲۳۸۰ - سات لوگ اللہ کے سایہ میں
سات لوگ اللہ کے سایہ میں: چھپا صدقہ اور تقویٰ کی حدیث
صحیح مسلم : ۲۳۸۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۳۸۰
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى جميعا ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ ، قَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ : الْإِمَامُ الْعَادِلُ ، وَشَابٌّ نَشَأَ بِعِبَادَةِ اللَّهِ ، وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ فِي الْمَسَاجِدِ ، وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللَّهِ اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وَتَفَرَّقَا عَلَيْهِ ، وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ ، فَقَالَ : إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا حَتَّى لَا تَعْلَمَ يَمِينُهُ مَا تُنْفِقُ شِمَالُهُ ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ " ،
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سات شخص ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنے سایہ میں جگہ دے گا (یعنی عرش کے نیچے) جس دن اس کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہو گا ایک حاکم منصف (جو کتاب و سنت کے مطابق فیصلہ کرے خواہ بادشاہ ہو خواہ کوتوال وغیرہ) دوسرے وہ جوان جو اللہ کی راہ عبادت کے ساتھ بڑھا ہو، تیسرے وہ شخص جو مسجد سے نکلے اور دل اس کا مسجد میں لگا رہے، چوتھے وہ دو شخص کہ محبت کریں آپس میں اللہ کے واسطے اسی کے لئے ملیں اور اسی کے لئے جدا ہوں، پانچویں جو مرد ایسا متقی ہو کہ اسے کوئی عورت حسب و نسب والی مالدار، زنا کے لئے بلائے اور وہ کہے: میں اللہ سے ڈرتا ہوں (اور زنا سے باز رہے) چھٹے جو صدقہ دے ایسا چھپا کر کہ داہنے کہ نہ خبر ہو کہ بائیں ہاتھ نے خرچ کیا (اور یہ تصحیف ہے صحیح یہ ہے کہ بائیں ہاتھ کو خبر نہ ہو کہ داہنا کیا خرچ کرتا ہے) ساتویں جو اللہ کو اکیلے میں یاد کرے اور اس کے آنسو ٹپک پڑیں۔“ (یعنی اللہ کی محبت یا خوف سے)۔
صحیح مسلم حدیث ۲۳۸۰ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع تقویٰ، عبادت اور چھپا ہوا صدقہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات لوگوں کا ذکر فرمایا جنہیں اللہ اس دن اپنے سایہ میں جگہ دے گا جب اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا۔ ان میں عادل حاکم، اللہ کی عبادت میں جوانی گزارنے والا، مسجد سے دل لگانے والا، اللہ کے لیے محبت کرنے والے دو آدمی، گناہ کی دعوت پر “میں اللہ سے ڈرتا ہوں” کہنے والا، چھپا کر صدقہ دینے والا، اور تنہائی میں اللہ کو یاد کر کے رونے والا شامل ہیں۔ اس حدیث میں کئی نیک صفات ایک ساتھ آئی ہیں۔ خاص طور پر چھپا صدقہ اس انداز میں بیان ہوا کہ ایک ہاتھ کے خرچ کو دوسرا ہاتھ بھی نہ جانے۔ اس سے اخلاص، حیا، تقویٰ اور اللہ کے خوف کی قدر معلوم ہوتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عدل، عبادت اور اللہ کے لیے محبت بڑی نیک صفات ہیں۔
- گناہ کے موقع پر اللہ کا خوف انسان کو روک سکتا ہے۔
- چھپا ہوا صدقہ اخلاص کی علامت بن سکتا ہے۔
- تنہائی میں اللہ کو یاد کرنا دل کی نرمی کا سبب ہے۔
