صحیح مسلم حدیث ۲۳۸۱ - دل مسجد سے جڑا رہنے کی فضیلت

مسجد سے محبت کی حدیث: دل مسجد سے جڑا رہے

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۳۸۱

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَوْ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَقَالَ : " وَرَجُلٌ مُعَلَّقٌ بِالْمَسْجِدِ ، إِذَا خَرَجَ مِنْهُ حَتَّى يَعُودَ إِلَيْهِ " .

ابوہریرہ روایت:

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہی روایت ہے جو دوسری سند سے مروی ہے اور اس میں یہ ہے کہ ”جو شخص نکلے مسجد سے اور دل اس کا مسجد میں لگا ہو جب تک پھر لوٹ کر نہ جائے۔“

صحیح مسلم حدیث ۲۳۸۱ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل پیغام مسجد سے محبت اور نماز کے مقام سے دل کا تعلق ہے۔ حدیث میں ایسے شخص کا ذکر ہے جو مسجد سے نکلتا ہے، مگر اس کا دل مسجد میں لگا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ دوبارہ واپس آ جائے۔ یہ بات بتاتی ہے کہ مسجد صرف نماز پڑھنے کی جگہ نہیں، بلکہ مومن کے دل کا مرکز بھی بن سکتی ہے۔ مسجد سے محبت کی حدیث ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ بندہ جب عبادت کی جگہ سے نکلے تو اس کے دل میں دوبارہ حاضری کی چاہ باقی رہے۔ یہاں اصل نکتہ ظاہری قیام نہیں بلکہ دل کا لگاؤ ہے۔ جو شخص مسجد، جماعت اور عبادت سے ایسا تعلق رکھتا ہے، وہ اپنے معمولات میں بھی اللہ کی بندگی کو یاد رکھتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مسجد سے محبت دل کی کیفیت ہے، صرف وہاں بیٹھنے کا نام نہیں۔
  • مومن کو مسجد سے نکلنے کے بعد بھی واپس جانے کا شوق رکھنا چاہیے۔
  • عبادت کی جگہ سے تعلق انسان کے دینی مزاج کو بہتر بناتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں