صحیح مسلم حدیث ۲۳۸۲ - افضل صدقہ صحت کے وقت دینا
افضل صدقہ کون سا ہے؟ صحت میں دیا گیا صدقہ
صحیح مسلم : ۲۳۸۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۳۸۲
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الصَّدَقَةِ أَعْظَمُ ؟ ، فَقَالَ : " أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ ، تَخْشَى الْفَقْرَ وَتَأْمُلُ الْغِنَى ، وَلَا تُمْهِلَ حَتَّى إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ " ، قُلْتَ لِفُلَانٍ : كَذَا ، وَلِفُلَانٍ كَذَا ، أَلَا وَقَدْ كَانَ لِفُلَانٍ .
ابوہریرہ روایت:
ایک شخص آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور عرض کی اے اللہ کے رسول! افضل اور ثواب میں بڑا صدقہ کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو صدقہ دے اور تو تندرست ہو اور حریص ہو اور خوف کرتا ہو محتاجی کا اور امید رکھتا ہو امیری کی، وہ افضل ہے اور یہاں تک صدقہ دینے میں دیر نہ کرے کہ جب جان حلق میں آ جائے تو کہنے لگے: یہ فلانے کا ہے، یہ مال فلانے کو دو اور وہ تو خود اب فلانے کا ہو چکا۔“ (یعنی تیرے مرتے ہی وارث لوگ لے لیں گے)۔
صحیح مسلم حدیث ۲۳۸۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں افضل صدقہ کے بارے میں صاف جواب ملتا ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے بتایا کہ بڑا اجر والا صدقہ وہ ہے جو انسان اس وقت دے جب وہ تندرست ہو، مال کی خواہش بھی رکھتا ہو، محتاجی کا خوف بھی ہو، اور امیری کی امید بھی ہو۔ یعنی جب دل مال روکنے کو چاہتا ہے، اسی وقت اللہ کی راہ میں دینا زیادہ معنی رکھتا ہے۔ حدیث یہ بھی سمجھاتی ہے کہ صدقہ دینے میں اتنی دیر نہ کی جائے کہ جان حلق تک آ جائے، پھر آدمی کہے کہ یہ فلاں کو دے دو۔ اس وقت مال عملاً وارثوں کی طرف جانے والا ہوتا ہے۔ اس لیے صدقہ کب دینا چاہیے کا جواب یہی ہے کہ زندگی، اختیار اور صحت کے وقت دینا بہتر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صدقہ صحت اور اختیار کے وقت دینا زیادہ بہتر بتایا گیا ہے۔
- مال کی محبت کے باوجود دینا نفس کے لیے ایک سنجیدہ امتحان ہے۔
- نیکی کو موت کے وقت تک ٹالنا درست رویہ نہیں۔
