صحیح مسلم حدیث ۱۰۲۸ - نبی صلى الله عليه وسلم کی نماز ہلکی مگر مکمل
نبی صلى الله عليه وسلم کی نماز: ہلکی قرأت اور فجر میں سورۂ ق
صحیح مسلم : ۱۰۲۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۰۲۸
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، عَنِ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : كَانَ يُخَفِّفُ الصَّلَاةَ ، وَلَا يُصَلِّي صَلَاةَ هَؤُلَاءِ ، قَالَ : وَأَنْبَأَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ ب ق وَالْقُرْءَانِ سورة ق آية 1 وَنَحْوِهَا " .
سماک روایت:
میں نے سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں۔ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہلکی نماز پڑھتے تھے۔ ان لوگوں کی طرح (بڑی بڑی سورتیں) نہیں پڑھتے تھے اور فجر کی نماز میں «ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ» یا اس کے برابر سورتیں پڑھتے تھے۔
صحیح مسلم حدیث ۱۰۲۸ کا خلاصہ
سماک کہتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے جواب دیا کہ آپ صلى الله عليه وسلم نماز ہلکی پڑھتے تھے اور ان لوگوں کی طرح نماز نہیں پڑھتے تھے۔ پھر انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم فجر میں «ق والقرآن» یا اس جیسی سورتیں پڑھتے تھے۔ اس حدیث میں نماز میں تخفیف اور فجر کی قرأت دونوں باتیں آتی ہیں۔ اس سے سمجھ آتا ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم کی نماز لوگوں پر بوجھ بنانے والی نہ تھی، مگر فجر میں قرآن کی مناسب قرأت بھی ہوتی تھی۔ روایت صرف اتنی بات بتاتی ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم کا انداز ہلکا تھا اور فجر میں سورۂ ق یا اس کے قریب سورتیں پڑھی جاتی تھیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم نماز کو ہلکا رکھتے تھے۔
- فجر میں سورۂ ق یا اس کے برابر سورتیں پڑھی جاتی تھیں۔
- صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی صلى الله عليه وسلم کی نماز کے انداز کو سوال کر کے سمجھتے تھے۔
- حدیث میں نماز کو غیر ضروری طور پر لمبا کرنے کا انداز پسند نہیں دکھایا گیا۔
