صحیح مسلم حدیث ۱۰۲۹ - ظہر، عصر اور فجر کی قرأت
ظہر، عصر اور فجر میں قرأت کا فرق
صحیح مسلم : ۱۰۲۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۰۲۹
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ بِ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى سورة الليل آية 1 ، وَفِي الْعَصْرِ نَحْوَ ذَلِكَ ، وَفِي الصُّبْحِ أَطْوَلَ مِنْ ذَلِكَ " .
جابر بن سمرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز میں «واللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى» پڑھتے اور عصر میں بھی اتنی بڑی سورتیں اور فجر کی نماز میں اس سے لمبی سورتیں پڑھتے تھے۔
صحیح مسلم حدیث ۱۰۲۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی مختلف نمازوں کی قرأت کا ذکر کرتے ہیں۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلى الله عليه وسلم ظہر کی نماز میں «والليل إذا يغشى» پڑھتے تھے، عصر میں بھی اسی کے قریب سورتیں پڑھتے، اور فجر کی نماز میں اس سے لمبی سورتیں پڑھتے تھے۔ یہ روایت نمازوں کے درمیان قرأت کے فرق کو سادہ انداز میں بتاتی ہے۔ فجر کی قرأت لمبی ہونے کا ذکر یہاں صاف ہے، جبکہ ظہر اور عصر میں نسبتاً کم قرأت کا بیان ہے۔ حدیث میں یہ نہیں کہا گیا کہ ہر دن یہی سورت لازم تھی، بلکہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے عمل کا ایک بیان نقل کیا گیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ظہر میں نبی صلى الله عليه وسلم نے سورۂ لیل کی قرأت فرمائی۔
- عصر کی قرأت بھی ظہر کے قریب بیان ہوئی۔
- فجر میں ظہر اور عصر سے لمبی قرأت کا ذکر آیا ہے۔
- نمازوں میں قرأت کی مقدار ایک جیسی نہیں رہی۔
