صحیح مسلم حدیث ۱۰۲۷ - فجر میں سورۂ ق اور باقی نمازوں میں تخفیف
فجر میں سورۂ ق اور نماز کو مناسب رکھنے کا نبوی انداز
صحیح مسلم : ۱۰۲۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۰۲۷
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : " إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ ب ق وَالْقُرْءَانِ الْمَجِيدِ سورة ق آية 1 ، وَكَانَ صَلَاتُهُ بَعْدُ تَخْفِيفًا " .
جابر بن سمرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز میں سورہ «ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ» پڑھتے تھے اور باقی نمازیں ہلکی پڑھتے تھے۔
صحیح مسلم حدیث ۱۰۲۷ کا خلاصہ
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم فجر کی نماز میں «ق والقرآن المجيد» پڑھتے تھے، اور اس کے بعد آپ صلى الله عليه وسلم کی نماز ہلکی ہوتی تھی۔ اس حدیث میں دو باتیں صاف آتی ہیں: فجر کی قرأت میں سورۂ ق کا ذکر، اور باقی نمازوں میں تخفیف کا انداز۔ یہاں تخفیف کا مطلب روایت کے الفاظ کے مطابق نماز کو ہلکا رکھنا ہے، یعنی اسے لوگوں کے لیے بھاری نہ بنانا۔ حدیث ہمیں نبی صلى الله عليه وسلم کی نماز کا متوازن انداز دکھاتی ہے۔ فجر میں نسبتاً لمبی قرأت کا ذکر آتا ہے، جبکہ دوسری نمازوں کے بارے میں بتایا گیا کہ آپ صلى الله عليه وسلم انہیں ہلکا پڑھتے تھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم فجر میں سورۂ ق پڑھتے تھے۔
- باقی نمازوں میں آپ صلى الله عليه وسلم نماز کو ہلکا رکھتے تھے۔
- نماز میں قرأت کا انداز نماز کے وقت کے لحاظ سے مختلف ہو سکتا ہے۔
- حدیث میں فجر کی قرأت اور باقی نمازوں کی تخفیف دونوں باتیں آئی ہیں۔
