صحیح مسلم حدیث ۱۰۲۶ - پہلی رکعت میں سورۂ ق

فجر کی پہلی رکعت میں سورۂ ق کی قرأت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۰۲۶

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، عَنْ عَمِّهِ ، " أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ ، فَقَرَأَ فِي أَوَّلِ رَكْعَةٍ : وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ لَهَا طَلْعٌ نَضِيدٌ ، وَرُبَّمَا ، قَالَ : ق " .

قطبہ بن مالک روایت:

نوید بن علاقہ نے اپنے چچا (سیدنا قطبہ بن مالک رضی اللہ عنہ) سے سنا، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فجر کی نماز پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی رکعت میں یہ پڑھا «وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ لَهَا طَلْعٌ نَضِيدٌ» اور کبھی کہا کہ سورۃ ق پڑھی۔

صحیح مسلم حدیث ۱۰۲۶ کا خلاصہ

اس روایت میں بتایا گیا ہے کہ راوی نے اپنے چچا سیدنا قطبہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ انہوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے ساتھ فجر کی نماز پڑھی۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے پہلی رکعت میں «والنخل باسقات لها طلع نضيد» پڑھا، اور کبھی راوی نے یہ کہا کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے سورۂ ق پڑھی۔ یہ حدیث فجر کی پہلی رکعت کی قرأت کے بارے میں ایک خاص نقل ہے۔ اس میں پہلی رکعت کا ذکر بھی آیا ہے، اس لیے یہ روایت پچھلی روایات سے کچھ مزید وضاحت دیتی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ فجر کی نماز میں نبی صلى الله عليه وسلم کی قرأت ایسی تھی کہ صحابہ اسے سن کر یاد رکھتے اور آگے بیان کرتے تھے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • فجر کی پہلی رکعت میں سورۂ ق یا اس کی آیت پڑھی گئی۔
  • راوی نے الفاظ میں جو انداز نقل کیا، اسے اسی طرح بیان کیا گیا۔
  • صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی صلى الله عليه وسلم کی نماز کی قرأت کو محفوظ رکھتے تھے۔
  • حدیث میں پہلی رکعت کا ذکر خاص طور پر آیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں