صحیح مسلم حدیث ۱۰۲۴ - نماز میں سورۂ ق کی قرأت
نماز میں سورۂ ق اور «والنخل باسقات» کی قرأت
صحیح مسلم : ۱۰۲۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۰۲۴
حَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، عَنْ قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ وَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَرَأ : ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ حَتَّى قَرَأَ : وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ سورة ق آية 1 - 10 ، قَالَ : فَجَعَلْتُ أُرَدِّدُهَا ، وَلَا أَدْرِي مَا قَالَ " .
قطبہ بن مالک روایت:
میں نے نماز پڑھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی تو سورۂ ق پڑھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی «وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ» میں بھی اس کو پڑھنے لگا لیکن مطلب نہ سمجھا۔ (مطلب اس کا یہ ہے اور کھجور کے لمبے لمبے درخت جن میں گھنے خوشے لگے ہیں)۔
صحیح مسلم حدیث ۱۰۲۴ کا خلاصہ
سیدنا قطبہ بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے پیچھے نماز پڑھی۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے سورۂ ق پڑھی، یہاں تک کہ آیت «والنخل باسقات» تک پہنچے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں اسے دہرانے لگا مگر اس کا مطلب نہ سمجھ سکا۔ اس حدیث میں نماز میں سورۂ ق کی قرأت کا ایک واقعہ نقل ہوا ہے۔ اس سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی صلى الله عليه وسلم کی قرأت کو دھیان سے سنتے تھے، کبھی کوئی لفظ یا آیت دل میں رہ جاتی تھی، اور کبھی اس کا معنی فوراً واضح نہیں ہوتا تھا۔ حدیث ہمیں قرأت سننے، یاد رکھنے اور سمجھنے کی خواہش کا ایک سادہ انداز دکھاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم نے نماز میں سورۂ ق کی قرأت فرمائی۔
- صحابی نے آیت کو دہرایا، مگر معنی نہ سمجھنے کی بات صاف کہی۔
- نماز میں قرآن سننا اور یاد رکھنا صحابہ کی عادت میں شامل تھا۔
- حدیث میں سورۂ ق کی ایک خاص آیت کا ذکر کیا گیا ہے۔
