صحیح مسلم حدیث ۱۰۲۵ - فجر میں «والنخل باسقات»

فجر کی نماز میں سورۂ ق کی آیت «والنخل باسقات»

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۰۲۵

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، عَنْ قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ : " سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ : وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ لَهَا طَلْعٌ نَضِيدٌ سورة ق آية 10 " .

قطبہ بن مالک روایت:

سیدنا قطبہ بن مالک رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فجر میں پڑھتے سنا: «وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ لَهَا طَلْعٌ نَضِيدٌ» (یہ آیت سورہ ق میں ہے)۔

صحیح مسلم حدیث ۱۰۲۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا قطبہ بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو فجر کی نماز میں «والنخل باسقات لها طلع نضيد» پڑھتے سنا۔ یہ آیت سورۂ ق میں ہے۔ روایت مختصر ہے مگر فجر کی قرأت کے بارے میں صاف بات بتاتی ہے۔ اس میں نہ لمبی بحث ہے، نہ کوئی الگ حکم بیان کیا گیا ہے، بلکہ صرف یہ بتایا گیا ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے فجر میں یہ آیت پڑھی۔ اس لیے اس حدیث کو فجر میں سورۂ ق کی قرأت کے ثبوت کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔ صحابی کا سننا اور اسے نقل کرنا یہ بتاتا ہے کہ نماز کی قرأت بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے نزدیک یاد رکھنے کے قابل عمل تھی۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلى الله عليه وسلم نے فجر میں سورۂ ق کی آیت پڑھی۔
  • صحابی نے سنی ہوئی قرأت کو مختصر الفاظ میں نقل کیا۔
  • حدیث فجر کی نماز میں قرآن کی قرأت کا ایک خاص نمونہ بتاتی ہے۔
  • روایت میں صرف آیت کے پڑھنے کا ذکر ہے، اضافی تفصیل نہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں