صحیح مسلم حدیث ۲۳۷۹ - پڑوسی کے تحفے کو حقیر نہ جانو
پڑوسی کا حق: معمولی تحفہ بھی حقیر نہ سمجھو
صحیح مسلم : ۲۳۷۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۳۷۹
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " يَا نِسَاءَ الْمُسْلِمَاتِ ، لَا تَحْقِرَنَّ جَارَةٌ لِجَارَتِهَا ، وَلَوْ فِرْسِنَ شَاةٍ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے مسلمان عورتو! کوئی تم میں سے اپنے ہمسائے کو حقیر نہ جانے اگرچہ ایک بکری کا کھر ہی دے۔“ (یعنی نہ لینے والا اس کو حقیر سمجھ کر انکار کرے، نہ دینے والا شرمندہ ہو کر دینے سے باز رہے)۔
صحیح مسلم حدیث ۲۳۷۹ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع پڑوسی کا حق اور چھوٹی نیکی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمان عورتوں سے فرمایا کہ کوئی پڑوسن اپنی پڑوسن کو دی ہوئی چیز حقیر نہ جانے، اگرچہ وہ بکری کا کھر ہی کیوں نہ ہو۔ یہ حدیث بہت آسان مگر گہری عملی بات سکھاتی ہے۔ نیکی ہمیشہ بڑی رقم یا بڑی چیز سے نہیں ہوتی۔ کبھی معمولی سا تحفہ، کھانے کی تھوڑی چیز یا چھوٹی مدد بھی دلوں میں محبت پیدا کرتی ہے۔ حدیث میں خاص طور پر حقیر سمجھنے سے منع کیا گیا ہے، یعنی نہ دینے والا شرم کی وجہ سے رک جائے، نہ لینے والا اسے کم سمجھے۔ پڑوسی کے ساتھ اچھا تعلق اسلام کی خوبصورت تعلیمات میں سے ہے، اور یہ حدیث اسی کو عام فہم انداز میں بیان کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- پڑوسی کو دی گئی چھوٹی چیز بھی حقیر نہیں سمجھنی چاہیے۔
- نیکی معمولی چیز سے بھی ہو سکتی ہے۔
- تحفہ دینے اور لینے دونوں میں دل کی نرمی ہونی چاہیے۔
- پڑوسی کے ساتھ تعلق میں محبت اور سادگی اہم ہے۔
