صحیح بخاری حدیث ۶۶۷۹ - بہتان کے بعد معافی اور خرچ
واقعہ افک، معافی اور ابوبکرؓ کی سخاوت
صحیح بخاری : ۶۶۷۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۶۷۹
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ . ح وحَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ النُّمَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ الْأَيْلِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، وَسَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، وَعَلْقَمَةَ بْنَ وَقَّاصٍ ، وَعُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الْإِفْكِ مَا قَالُوا ، فَبَرَّأَهَا اللَّهُ مِمَّا قَالُوا ، كُلٌّ حَدَّثَنِي طَائِفَةً مِنَ الْحَدِيثِ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالإِفْكِ سورة النور آية 11 الْعَشْرَ الْآيَاتِ كُلَّهَا فِي بَرَاءَتِي " . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ : وَكَانَ يُنْفِقُ عَلَى مِسْطَحٍ لِقَرَابَتِهِ مِنْهُ ، وَاللَّهِ لَا أُنْفِقُ عَلَى مِسْطَحٍ شَيْئًا أَبَدًا بَعْدَ الَّذِي قَالَ لِعَائِشَةَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : وَلا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ أَنْ يُؤْتُوا أُولِي الْقُرْبَى سورة النور آية 22 الْآيَةَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : بَلَى وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لِي ، فَرَجَعَ إِلَى مِسْطَحٍ النَّفَقَةَ الَّتِي كَانَ يُنْفِقُ عَلَيْهِ ، وَقَالَ : وَاللَّهِ لَا أَنْزِعُهَا عَنْهُ أَبَدًا .
زہری روایت:
میں نے عروہ بن زبیر، سعید بن المسیب، علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ رضی اللہ عنہم سے سنا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہتان کی بات کے متعلق، جب ان پر اتہام لگانے والوں نے اتہام لگایا تھا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اس اتہام سے بری قرار دیا تھا، ان سب لوگوں نے مجھ سے اس قصہ کا کوئی ایک ٹکڑا بیان کیا (اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ) پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «إن الذين جاءوا بالإفك» کہ ”بلاشبہ جن لوگوں نے جھوٹی تہمت لگائی ہے“ دس آیتوں تک۔ جو سب کی سب میری پاکی بیان کرنے کے لیے نازل ہوئی تھیں۔ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، مسطح رضی اللہ عنہ کے ساتھ قرابت کی وجہ سے ان کا خرچ اپنے ذمہ لیے ہوئے تھے، کہا کہ اللہ کی قسم اب کبھی مسطح پر کوئی چیز ایک پیسہ خرچ نہیں کروں گا۔ اس کے بعد کہ اس نے عائشہ رضی اللہ عنہا پر اس طرح کی جھوٹی تہمت لگائی ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «ولا يأتل أولو الفضل منكم والسعة أن يؤتوا أولي القربى» الخ۔ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا، کیوں نہیں، اللہ کی قسم میں تو یہی پسند کرتا ہوں کہ اللہ میری مغفرت کر دے۔ چنانچہ انہوں نے پھر مسطح کو وہ خرچ دینا شروع کر دیا جو اس سے پہلے انہیں دیا کرتے تھے اور کہا کہ اللہ کی قسم میں اب خرچ دینے کو کبھی نہیں روکوں گا۔
صحیح بخاری حدیث ۶۶۷۹ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع معافی اور رشتہ دار پر خرچ ہے۔ روایت میں عائشہ رضی اللہ عنہا پر لگائے گئے بہتان کا ذکر ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے آیات نازل فرما کر ان کی پاکی بیان کی۔ مسطح رضی اللہ عنہ بھی اس واقعے میں شامل تھے، اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ قرابت کی وجہ سے ان پر خرچ کرتے تھے۔ انہوں نے قسم کھائی کہ اب مسطح پر کچھ خرچ نہیں کریں گے۔ پھر آیت نازل ہوئی جس میں وسعت رکھنے والوں کو رشتہ داروں اور محتاجوں کو دینے سے نہ رکنے کی تعلیم دی گئی۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں چاہتا ہوں اللہ میری مغفرت فرمائے، پھر انہوں نے خرچ دوبارہ جاری کر دیا۔ اس حدیث میں بہتان، معافی، خرچ اور مغفرت کی امید کا مضبوط سبق ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بہتان کے معاملے میں اللہ نے عائشہؓ کی براءت نازل فرمائی۔
- ابوبکرؓ نے مغفرت کی امید پر مسطحؓ کا خرچ دوبارہ جاری کیا۔
- رشتہ دار اور محتاج پر خرچ روکنے کے معاملے میں آیت نازل ہوئی۔
- شدید تکلیف کے بعد بھی معافی اور احسان کا راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔
