صحیح بخاری حدیث ۶۶۹۷ - اعتکاف کی نذر
اعتکاف کی نذر کی حدیث: اپنی نذر پوری کرو
صحیح بخاری : ۶۶۹۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۶۹۷
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَبُو الْحَسَنِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ عُمَرَ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي نَذَرْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ أَعْتَكِفَ لَيْلَةً فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ، قَالَ : " أَوْفِ بِنَذْرِكَ " .
ابن عمر روایت:
عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ مسجد الحرام میں ایک رات کا اعتکاف کروں گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی نذر پوری کر۔
صحیح بخاری حدیث ۶۶۹۷ کا خلاصہ
یہ حدیث اعتکاف کی نذر کے بارے میں ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے عرض کیا کہ میں نے جاہلیت کے زمانے میں نذر مانی تھی کہ مسجد الحرام میں ایک رات اعتکاف کروں گا۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اپنی نذر پوری کرو۔ اس روایت میں خاص طور پر ایک نیکی والی نذر کا ذکر ہے، یعنی مسجد الحرام میں اعتکاف۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے اسے پورا کرنے کا حکم دیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر نذر اللہ کی اطاعت اور عبادت سے متعلق ہو تو اسے ہلکا نہیں لینا چاہیے۔ یہاں یہ بھی واضح ہے کہ حدیث صرف اسی نذر کے بارے میں بات کر رہی ہے جو نیکی کے کام سے متعلق تھی، کسی گناہ یا نقصان دہ کام سے متعلق نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نیکی والی نذر پوری کرنے کا حکم دیا گیا۔
- عمر رضی اللہ عنہ کی نذر مسجد الحرام میں اعتکاف سے متعلق تھی۔
- عبادت کی نذر کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔
